کراچی میں آج بھی بارش کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
فائل فوٹو
کراچی میں آج بھی بارش کا امکان ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ہفتے کی شام موسلا دھار بارش ہوئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ بارش سرجانی ٹاؤن میں 58.2 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔
بارش کے باعث سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا، جبکہ کئی جگہوں سڑکوں کے گڑھوں میں گاڑیاں اور موٹر سائیکلز پھنس گئیں۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور پانی کی نکاسی کا معائنہ کیا۔
ناگن چورنگی، قیوم آباد اور ملیر جعفرطیار میں پانی کی نکاسی کیلئے سکشن پمپس پہنچادیئے گئے۔
نارتھ کراچی شادمان نالے سے پانی کی نکاسی ہوگئی، ملیر ہالٹ پر بارش کا پانی جمع ہے۔
دوسری جانب بارش کے باعث کئی پروازیں متاثر ہوئیں جبکہ ایک پرواز منسوخ ہوگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔