ا سلام آ باد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارتِ خزانہ نے ماہانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کے مطابق جون میں مہنگائی کی شرح 3 سے 4 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
 ڈان نیوز  نے وزارت خزانہ کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ ماہ وزارت خزانہ نے بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم) کی ترقی کے بارے میں محتاط رویہ اپناتے ہوئے مئی اور جون کے دوران مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
مئی 2025 میں سال بہ سال مہنگائی کی شرح دسمبر کے بعد بلند ترین سطح پر تھی، جو کئی ماہ کے وقفے کے بعد افراطِ زر کے دوبارہ بڑھنے کا اشارہ دیتی ہے۔
ادارہ شماریات پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مئی میں مہنگائی کی شرح 3.

46 فیصد رہی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون 2025 کے لیے مہنگائی کی شرح 3 سے 4 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ آنے والے مہینوں میں بڑی صنعتوں کی صورتحال مثبت دکھائی دیتی ہے، جس کی بنیاد سیمنٹ کی فروخت اور گاڑیوں کی خریداری جیسے اشاریوں پر رکھی گئی ہے۔
مئی میں کاروں، سپورٹ یوٹیلیٹی وہیکلز (ایس یو ویز)، پک اپس اور وینز کی فروخت 14 ہزا 762 یونٹس تک پہنچی، جو کہ سال بہ سال 35 فیصد اور ماہ بہ ماہ 39 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
تاہم، وزارت خزانہ کے مطابق اپریل 2025 میں ایل ایس ایم کی کارکردگی ملی جلی رہی، جہاں سالانہ بنیاد پر 2.3 فیصد اضافہ ہوا، لیکن ماہانہ بنیاد پر 3.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نجی شعبے کو قرضوں میں اضافہ پیداوار میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کو ظاہر کرتا ہے۔
کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی سال 25-2024 کے جولائی تا مئی کے عرصے میں ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافے کی بدولت بیرونی کھاتوں کی پوزیشن میں بہتری آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ترسیلات اور برآمدات میں اضافے کی بدولت مالی سال 2025 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہنے کی توقع ہے۔
زرعی شعبے سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا کہ معیاری بیجوں اور مشینی کاشت کے استعمال سے زرعی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’زرعی مشینری کی درآمدات جولائی تا اپریل مالی سال 2025 کے دوران 10 فیصد بڑھ کر 6 کروڑ 92 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کہ مشینی کاشت میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں‘۔
اس سے قبل رواں ماہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی جائزہ 25-2024 پیش کرتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا تھا کہ مالی سال کے اختتام تک ملک کی معیشت 2.7 فیصد کی شرح نمو حاصل کر لے گی۔
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 1.37 فیصد، دوسری سہ ماہی میں 1.53 فیصد، اور تیسری سہ ماہی میں 2.4 فیصد رہی، اس کا مطلب ہے کہ 2.7 فیصد کا ہدف حاصل کرنے کے لیے اپریل تا جون کے 3 مہینوں میں 5.5 فیصد شرح نمو حاصل کرنا ہوگی۔
تاہم یہ شرح اب بھی مقرر کردہ 3.6 فیصد ہدف سے کم ہے، یہ مسلسل تیسرا سال ہے کہ حکومت اپنی مقررہ شرح نمو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

کراچی، حیدرآباد میں 2 تا 5 جولائی شدید بارشوں کا امکان، اربن فلڈنگ کا خدشہ

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: رپورٹ میں کہا گیا مہنگائی کی شرح 3 کہا گیا کہ میں اضافے کے مطابق مالی سال

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقات

اٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہ

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورک

پاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔

اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیں

رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاری

ملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے