آزاد کشمیر، تحریک انصاف کے 2 اراکین اسمبلی پیپلز پارٹی میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
زرداری ہاؤس کراچی میں پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و رکنِ سندھ اسمبلی سے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے 2 راہنماؤں نے ملاقات کے دوران پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ دونوں راہنماؤں نے صدر مملکت اور چیئرمین پیپلز پارٹی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک انصاف کو آزاد کشمیر میں بڑا جھٹکا، 2 اہم اراکین اسمبلی پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و رکنِ سندھ اسمبلی فریال تالپور سے سیاسی راہنماؤں کی ملاقاتیں ہوئیں جس میں انہوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ فریال تالپور سے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے سینئر نائب صدر و ایم ایل اے چودھری رفیق نیئر اور وزیر ٹرانسپورٹ جاوید بٹ کی ملاقات ہوئی۔ زرداری ہاؤس کراچی میں ملاقات کے دوران چودھری رفیق نیئر اور جاوید بٹ نے اپنے اپنے ساتھیوں اور حامیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ چودھری رفیق نیئر اور جاوید بٹ نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
اس موقع پر سردار تنویر الیاس نے کہا کہ کشمیر کاز کو مضبوطی سے آگے بڑھانے اور آزاد کشمیر کی ترقی و بہبود کا واحد سیاسی پلیٹ فارم قائدِ عوام شہید بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی پارٹی ہے، اس کی قیادت اب بلاول بھٹو کے مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ فریال تالپور نے چودھری رفیق نیئر اور جاوید بٹ کو ان کے ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت پر خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر آزاد کشمیر کے وزیر و پی پی پی آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری فیصل ممتاز اور چودھری محمد ریاض بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی میں شمولیت چودھری رفیق نیئر اور آزاد کشمیر کے جاوید بٹ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔