راولپنڈی احتجاج کیس، پی ٹی آئی کے 21 کارکنوں کی ضمانتیں منظور
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے 9 مئی، 4 اکتوبر، 24 اور 26 نومبر احتجاجی کیسوں کے تمام ملزمان کی ضمانتیں منظور کرلیں۔ راولپنڈی اور اٹک جیل میں ان کیسز کا اب کوئی ملزم قیدی نہیں رہا، ہائی کورٹ نے ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ اسلام ٹائمز۔ 24 اور 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق کیسز میں لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے پی ٹی آئی کے 21 کارکنان، ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لیں۔ عدالت نے 9 مئی، 4 اکتوبر، 24 اور 26 نومبر احتجاجی کیسوں کے تمام ملزمان کی ضمانتیں منظور کرلیں۔ راولپنڈی اور اٹک جیل میں ان کیسز کا اب کوئی ملزم قیدی نہیں رہا، ہائی کورٹ نے ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ ہائی کورٹ جج جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس امجد رفیق نے ضمانتیں منظور کیں۔
علاوہ ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں 9 مئی تھانہ رمنا پر حملہ اور توڑ پھوڑ کے معاملہ میں سہیل خان وغیرہ کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت نہ ہوسکی۔جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کرنا تھی، مجرمان نے اے ٹی سی عدالت سے ہونے والی سزا معطلی کی بھی استدعا کر رکھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی ضمانتیں منظور ہائی کورٹ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔