312 ارب روپے کے نئے ٹزکس اور سخت اقدامات:نئے مالی سال میں اور کیا بدلے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: نیا مالی سال شروع ہوتے ہی فنانس ایکٹ 2025 آج سے ملک بھر میں نافذ العمل ہو گیا ہے، جس کے ساتھ ہی عوام، کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کو نئے ٹیکسوں اور مالیاتی اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس ایکٹ کے تحت جہاں 312 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لاگو کیے گئے ہیں، وہیں 389 ارب روپے کے سخت انفورسمنٹ اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں، جن کا مقصد محصولات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹیکس نیٹ میں وسعت لانا ہے۔
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق فنانس ایکٹ کے تحت کئی اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تبدیلی میوچل فنڈز کے ذریعے سرمایہ کاری پر لاگو ٹیکس کی شرح میں اضافہ ہے، جو اب 25 فیصد سے بڑھا کر 29 فیصد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ٹی بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز پر بھی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، جس کا براہ راست اثر درمیانے درجے کے سرمایہ کاروں پر پڑے گا۔
حکومت نے ای کامرس اور آن لائن کاروبار کے شعبے کو بھی نئے ضابطوں کے تحت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب تمام آن لائن کاروبار کرنے والوں کے لیے ایف بی آر کے ساتھ رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ رجسٹریشن نہ کرنے کی صورت میں کاروبار بند کرنے، پراپرٹی ضبط کرنے یا دیگر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سولر پینلز کی درآمد اور فروخت پر بھی 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، جس پر عوامی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صاف توانائی کی جانب عوامی رجحان کو متاثر کرے گا۔ دوسری جانب، ہائی برڈ گاڑیوں کے پرزوں پر 4 فیصد ڈیوٹی اور زرعی ٹریکٹرز پر 15 فیصد ڈیوٹی بھی لاگو کر دی گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات پر بھی حکومت کو پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی شرح 90 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کا اختیار دے دیا گیا ہے، جس کا اثر نہ صرف ٹرانسپورٹ پر بلکہ دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیب میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اب ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر ایک فیصد انکم ٹیکس لاگو ہو گا، جبکہ ساڑھے 8 لاکھ روپے سے زائد ماہانہ پینشن حاصل کرنے والے افراد کو بھی انکم ٹیکس دینا ہو گا۔ تاہم کم آمدنی والے ملازمین کے لیے انکم ٹیکس میں کچھ کمی بھی کی گئی ہے۔
اثاثہ جات کی خریداری پر بھی نئی شرائط لاگو ہو چکی ہیں۔ اب 5کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد یا 70 لاکھ سے زیادہ قیمت کی گاڑی خریدنے کے لیے ایف بی آر سے باقاعدہ سرٹیفکیٹ لینا ہوگا، بصورت دیگر خریداری ممکن نہیں ہوگی۔
ٹیکس نیٹ سے باہر شہریوں پر بھی سخت اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ اب ایسے افراد صرف سادہ بینک اکاؤنٹ رکھ سکیں گے، جن سے محدود حد تک رقم نکالی جا سکے گی۔ سیونگ یا کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 5کروڑ روپے سے زائد کے ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری بھی اب کمیٹی کی منظوری کے بعد ممکن ہوگی۔
دوا ساز اور صنعتی شعبے کے لیے کچھ ریلیف بھی دیا گیا ہے۔ کینسر، ہیپاٹائٹس بی کی ادویات، ویکسینز اور ان میں استعمال ہونے والے 380 خام مال کی اقسام پر ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے، جب کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے درآمدی مشینری پر بھی کسٹمز ڈیوٹی کو صفر کر دیا گیا ہے، جس سے ملکی برآمدات کو فروغ ملنے کی امید ہے۔
مشترکہ سرحدی مارکیٹس میں فروخت ہونے والی 122 اشیا کو 3کیٹیگریز میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ پہلی کیٹیگری میں شامل اشیا پر 5 فیصد، دوسری پر 10 فیصد اور تیسری پر 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کر دیا گیا ہے کر دی گئی ہے کے لیے پر بھی
پڑھیں:
رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف کی تجاویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں بڑی کمی کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ٹیکس کی موجودہ شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
اس کے ساتھ ہی جائیداد کی فروخت پر لاگو 4.5 فیصد ٹیکس کو بھی گھٹا کر 1.5 فیصد تک لانے کی سفارش سامنے آئی ہے۔
حکومت اس اہم پالیسی تبدیلی کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جہاں بین الاقوامی ادارے کی جانب سے ان تجاویز پر تحفظات اور مخالفت کا سامنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود حکومتی سطح پر ان تجاویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق ٹیکسوں کی شرح میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں مندی کا خاتمہ ہوگا اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، تعمیراتی شعبے میں روزگار بڑھے گا اور مجموعی طور پر قومی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔