data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: نیا مالی سال شروع ہوتے ہی فنانس ایکٹ 2025 آج سے ملک بھر میں نافذ العمل ہو گیا ہے، جس کے ساتھ ہی عوام، کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کو نئے ٹیکسوں اور مالیاتی اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس ایکٹ کے تحت جہاں 312 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لاگو کیے گئے ہیں، وہیں 389 ارب روپے کے سخت انفورسمنٹ اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں، جن کا مقصد محصولات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹیکس نیٹ میں وسعت لانا ہے۔

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق فنانس ایکٹ کے تحت کئی اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تبدیلی میوچل فنڈز کے ذریعے سرمایہ کاری پر لاگو ٹیکس کی شرح میں اضافہ ہے، جو اب 25 فیصد سے بڑھا کر 29 فیصد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ٹی بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز پر بھی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، جس کا براہ راست اثر درمیانے درجے کے سرمایہ کاروں پر پڑے گا۔

حکومت نے ای کامرس اور آن لائن کاروبار کے شعبے کو بھی نئے ضابطوں کے تحت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب تمام آن لائن کاروبار کرنے والوں کے لیے ایف بی آر کے ساتھ رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ رجسٹریشن نہ کرنے کی صورت میں کاروبار بند کرنے، پراپرٹی ضبط کرنے یا دیگر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سولر پینلز کی درآمد اور فروخت پر بھی 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، جس پر عوامی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صاف توانائی کی جانب عوامی رجحان کو متاثر کرے گا۔ دوسری جانب، ہائی برڈ گاڑیوں کے پرزوں پر 4 فیصد ڈیوٹی اور زرعی ٹریکٹرز پر 15 فیصد ڈیوٹی بھی لاگو کر دی گئی ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات پر بھی حکومت کو پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی شرح 90 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کا اختیار دے دیا گیا ہے، جس کا اثر نہ صرف ٹرانسپورٹ پر بلکہ دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔

تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیب میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اب ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر ایک فیصد انکم ٹیکس لاگو ہو گا، جبکہ ساڑھے 8 لاکھ روپے سے زائد ماہانہ پینشن حاصل کرنے والے افراد کو بھی انکم ٹیکس دینا ہو گا۔ تاہم کم آمدنی والے ملازمین کے لیے انکم ٹیکس میں کچھ کمی بھی کی گئی ہے۔

اثاثہ جات کی خریداری پر بھی نئی شرائط لاگو ہو چکی ہیں۔ اب 5کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد یا 70 لاکھ سے زیادہ قیمت کی گاڑی خریدنے کے لیے ایف بی آر سے باقاعدہ سرٹیفکیٹ لینا ہوگا، بصورت دیگر خریداری ممکن نہیں ہوگی۔

ٹیکس نیٹ سے باہر شہریوں پر بھی سخت اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ اب ایسے افراد صرف سادہ بینک اکاؤنٹ رکھ سکیں گے، جن سے محدود حد تک رقم نکالی جا سکے گی۔ سیونگ یا کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 5کروڑ روپے سے زائد کے ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری بھی اب کمیٹی کی منظوری کے بعد ممکن ہوگی۔

دوا ساز اور صنعتی شعبے کے لیے کچھ ریلیف بھی دیا گیا ہے۔ کینسر، ہیپاٹائٹس بی کی ادویات، ویکسینز اور ان میں استعمال ہونے والے 380 خام مال کی اقسام پر ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے، جب کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے درآمدی مشینری پر بھی کسٹمز ڈیوٹی کو صفر کر دیا گیا ہے، جس سے ملکی برآمدات کو فروغ ملنے کی امید ہے۔

مشترکہ سرحدی مارکیٹس میں فروخت ہونے والی 122 اشیا کو 3کیٹیگریز میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ پہلی کیٹیگری میں شامل اشیا پر 5 فیصد، دوسری پر 10 فیصد اور تیسری پر 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کر دیا گیا ہے کر دی گئی ہے کے لیے پر بھی

پڑھیں:

ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان

اسلام آباد:

ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان کردیا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا باقاعدہ آغاز 27 جولائی سے ہوگا۔ ترجمان کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے درست، مکمل اور دیانتداری کے ساتھ جمع کرائیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق ٹیکس ریٹرن میں فراہم کی جانے والی تمام معلومات درست اور حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے کہ گوشوارے میں درج تمام تفصیلات حقائق کے مطابق ہوں تاکہ شفافیت اور درستگی برقرار رہے۔

ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ بروقت اور درست ٹیکس گوشوارے مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے ریٹرن بروقت جمع کرائیں اور معلومات کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی