ریٹائرڈ ملازمین کیلئےپنشن کے حوالے سے اہم خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے تقریباً 250 ریٹائرڈ ملازمین ایک ماہ سے اپنی پنشن کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ پیکٹاء کو پنجاب میں ضم کرنے کے بعد سے انہیں پنشن ملنے میں غیرمعمولی تاخیر ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے وہ مالی مشکلات میں گھِرے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی سی ٹی بی کے پنجاب میں انضمام کے بعد مالی قواعد و ضوابط کو مرتب نہ کرنے کی وجہ سے پنشن کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔ اس کا براہ راست اثر ریٹائرڈ ملازمین پر پڑا ہے جو گزشتہ کئی ہفتوں سے اپنی پنشن کے منتظر ہیں لیکن انہیں ابھی تک ادائیگی نہیں ہو سکی۔
ریٹائرڈ ملازمین نے کئی مرتبہ متعلقہ حکام سے پنشن کی ادائیگی کے لیے درخواست دی ہے مگر اب تک کوئی حل نہیں نکلا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ان کی پنشن جاری کی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی آرام سے گزار سکیں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد از جلد پنشن کی ادائیگی نہ ہوئی تو وہ بھرپور احتجاج پر مجبور ہوں گے، تاکہ اپنی جائز حقوق کے لیے آواز بلند کی جا سکے۔
مزیدپڑھیں:ریٹائرڈ ملازمین کیلئےپنشن کے حوالے سے اہم خبر آگئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ریٹائرڈ ملازمین پنشن کے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔