خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں گوریلا جنگ کے تناظر میں اہم شرعی نکات سامنے آ گئے جب کہ مفتی عبد الرحیم نے شریعت کی روشنی میں ریاستی اقدامات کو جائز قرار دے دیا۔

مفتی عبد الرحیم کے مطابق گوریلا جنگ ایسی خفیہ لڑائی ہے جس میں حملہ آور نشانہ لگا کر فوراً غائب ہو جاتے ہیں تاکہ ریاستی ردعمل کو مقامی لوگوں کے خلاف موڑا جا سکے، گوریلا جنگ میں اگر کسی پر شک ہو تو اس کی گرفتاری شریعت کے مطابق جائز ہے۔

مفتی عبد الرحیم نے کہا کہ اگر ریاست شک کی بنیاد پر سو افراد کو گرفتار کرے تب بھی شریعت اجازت دیتی ہے، گوریلا جنگ کا مقصد مقامی آبادی کو نقصان پہنچا کر ریاست سے متنفر کرنا ہے، اگر مسجد پر حملہ یا خودکش دھماکہ ہو تو ریاستی ردعمل لازمی ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ردعمل میں کوئی بےگناہ مارا جائے تو فوج دیت دے گی لیکن گنہگار نہیں ہوگی، دہشتگردوں کی سوشل میڈیا پر حمایت کرنے والے بھی جرم میں برابر کے شریک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف قاتل نہیں بلکہ سہولت کار بھی قتل کے گناہ میں شامل ہوتے ہیں، مقامی افراد کو چاہیے کہ وہ جنگ سے گریز کریں اور امن کو ترجیح دیں۔

مفتی عبد الرحیم نے کہا کہ گوریلا جنگ کی منصوبہ بندی مقامی افراد کو مشتعل کرنے کے لیے کی جاتی ہے، ریاستی ادارے شرعی دائرے میں رہ کر کارروائیاں کرتے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مفتی عبد الرحیم گوریلا جنگ

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن