پشاور (بیورورپورٹ+نوائے وقت رپورٹ+ آئی این پی) گورنر خیبر پی کے نے صوبائی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اشارہ دے دیا ہے۔ نجی ٹی وی  گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا  خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن کے پاس 52 یا 54 ارکان ہوچکے ہیں، جس دن  اسمبلی میں ہمارا  ایک بھی رکن زیادہ ہوا تو ہمارا جمہوری حق ہے کہ عدم اعتماد  لیکر آئیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف کوئی سازش نہیں کر رہے، اگر پی ٹی آئی کے پاس وفاق، پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں زیادہ ارکان ہیں تو وہ عدم اعتماد لے آئے۔ مولانا فضل الرحمان سے سیاسی ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں، علیمہ خان کہتی ہیں کہ مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کے خلاف کسی سیاسی کارروائی میں شامل نہیں ہوں گے۔ علیمہ خان تو مائنس عمران خان کا بھی کہہ چکی ہیں۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبرپی کے علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ گورنر خیبر پی کے کی میری حکومت گرانے کی حیثیت نہیں۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پی کے علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کونسلر کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سوات واقعے کی انکوائری چل رہی ہے،  سانحہ سوات کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی، دریائوں کی تعمیرات کو ختم کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں پشاور ہائیکورٹ نے علی امین گنڈا پور کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کی درخواست منظور کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پی کے کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: خیبر پی کے نے کہا

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن