data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں آئندہ تین برسوں کے لیے نئے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز  قیام پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہےکہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ 5 اکتوبر کو ملک بھر میں منعقد کیا جائے گا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس سینیٹر عامر ولید الدین کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس کے دوران سینیٹر ہمایوں مہمند نے پی ایم اینڈ ڈی سی ترمیمی بل پر بحث کرتے ہوئے تجویز دی کہ پارلیمنٹیرینز کو بھی پی ایم ڈی سی کے بورڈ میں شامل کیا جانا چاہیے، جیسا کہ دیگر تعلیمی بورڈز میں ہوتا ہے۔

پی ایم ڈی سی کے صدر نے مؤقف اختیار کیا کہ اراکینِ پارلیمنٹ پہلے بھی اس بورڈ کا حصہ نہیں رہے، جس پر کمیٹی چیئرمین نے ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین بورڈ میں شامل رہے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ملک کے موجودہ جمہوری حالات ایسے نہیں کہ پارلیمنٹیرینز کو پی ایم ڈی سی بورڈ کا رکن بنایا جائے، سیاسی مداخلت پی ایم ڈی سی میں حد سے زیادہ ہو چکی ہے، ہر طرف سے سفارشات اور دباؤ آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل کالجز میں معیار کو برقرار رکھنے کے لیے سیاسی اثرورسوخ سے پاک فیصلہ سازی ضروری ہے، پاکستان کے ڈاکٹر آج بھی دنیا بھر میں بہترین سمجھے جاتے ہیں اور ملک کو 10 سال کے لیے نیشنل ایکریڈیشن بھی ملی ہے۔

دوسری جانب سینیٹر عرفان صدیقی نے سیاسی نمائندگی کی مخالفت سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی ایم ڈی سی میں سیاسی ان پٹ ہوتا تو آج داخلوں، امتحانات اور کالجز سے متعلق مسائل اتنے پیچیدہ نہ ہوتے۔

انہوں نے تجویز دی کہ ترمیمی بل کو مزید بہتر بنانے کے لیے اس پر مزید غور کیا جائے اور آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا جائے تاکہ تمام تحفظات کا جائزہ لیا جا سکے۔

اجلاس کے دوران پی ایم ڈی سی کے ڈپٹی رجسٹرار ڈاکٹر امداد خشک نے کمیٹی کو بریفنگ دی کہ پی ایم ڈی سی بورڈ کے مجموعی طور پر 15 اراکین ہیں اور موجودہ ڈھانچے میں سینیٹرز یا اراکینِ قومی اسمبلی شامل نہیں ہیں۔

انہوں نے ایم ڈی کیٹ سے متعلق بتایا کہ امتحان 200 سوالات پر مشتمل ہونا تھا جس کا دورانیہ ساڑھے تین گھنٹے رکھا گیا تھا، مگر والدین کے اعتراضات کے بعد اب 180 سوالات اور 3 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ اس مرتبہ سوالات کا انتخاب 10 ہزار ایم سی کیوز کے پول میں سے کیا جائے گا تاکہ آؤٹ آف سلیبس سوالات کا خدشہ ختم کیا جا سکے۔

صدر پی ایم ڈی سی ڈاکٹر رضوان تاج نے آخر میں واضح کیا کہ میڈیکل کالجز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد اور فیکلٹی کی کمی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگلے تین سال تک مزید نئے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ اجلاس میڈیکل تعلیم میں معیار، شفافیت اور سیاسی مداخلت کے حساس موضوعات پر ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ایم ڈی سی ہوئے کہا کے لیے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف