وہیل کے کبھی پاؤں بھی ہوا کرتے تھے، مصر میں وہیل ویلی سے حیران کن شواہد مل گئے
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وہیل کو آج ہم سمندر کی عظیم مخلوق کے طور پر جانتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کبھی وہیل کے پاؤں بھی ہوا کرتے تھے؟
مصر کے صحرائی علاقے میں موجود وادی الحتان، جسے دنیا ’’وہیل ویلی‘‘ کے نام سے جانتی ہے، میں حالیہ برسوں میں ہونے والی حیران کن دریافتوں نے یہ حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی ہے کہ وہیل کا سفر زمین سے سمندر تک ایک شاندار ارتقائی کہانی ہے۔
مصری صحارا میں واقع اس تاریخی مقام پر اب تک 400 سے زائد قدیم وہیل کے ڈھانچے دریافت کیے جاچکے ہیں، جو آخری Eocene دور یعنی 33.
وہیل ویلی کی پہلی بڑی دریافت 1902 میں ہوئی جب سائنسدانوں نے وہیل کی ایک نامعلوم نسل کا پتہ لگایا، جس نے قدیم حیاتیات کی تحقیق میں نئی راہیں کھولیں۔ اس مقام کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب 2019 کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہاں ملنے والی قدیم وہیل کی لمبائی تقریباً 60 فٹ تھی اور وہ ممکنہ طور پر چھوٹی وہیلوں کا شکار کرتی تھی، انہیں نگلنے سے پہلے ان کی کھوپڑی کو چبا ڈالتی تھی۔
برلن میوزیم آف نیچرل ہسٹری سے وابستہ سمندری ممالیہ کی ماہر اور 2019 کی تحقیق کی مرکزی مصنف مانجا ووس کے مطابق اس قدیم وہیل کی تھوتھنی لمبی اور اس کے جبڑے تیز دانتوں سے لیس تھے، جس کی مدد سے وہ شکار کو گرفت میں لے کر آسانی سے کھا سکتی تھی۔
یہ حیرت انگیز دریافتیں نہ صرف زمین کی قدیم تاریخ کو جاننے کا ذریعہ ہیں بلکہ ہمیں یہ سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہیں کہ ارتقا کے عمل نے کس طرح ایک خشکی پر رہنے والے جانور کو سمندر کی گہرائیوں کا شہنشاہ بنا دیا۔ وہیل ویلی آج بھی محققین اور ماہرین حیاتیات کے لیے ایک ایسی لیبارٹری بنی ہوئی ہے جہاں ماضی کی تہیں کھل کر ارتقا کی کہانی سناتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی زندگی سے متعلق ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ معروف گلوکار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے عیسیٰ خیل میں اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے اور وہ آخرت کی تیاری کو زندگی کا اہم ترین حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے حال ہی میں صحافی ارشاد بھٹی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی، موسیقی اور ذاتی خیالات پر کھل کر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے۔ میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، مکمل بن چکی ہے۔ اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا ورنہ بعد میں خود ہی دیکھ لیں گے۔ ہمارا اپنا خاندانی قبرستان بھی ہے، جہاں میں نے اپنے لیے ایک قبر مخصوص کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ چند جگہیں اور بھی ہیں جن میں سے ایک کے بارے میں میں نے مذاق میں کہا تھا کہ وہ میری اہلیہ کے لیے ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ مذاق کر رہا ہوں حقیقت میں صرف اپنی قبر محفوظ کروائی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔
گلوکار نے قبر کے بارے میں بتایا کہ یہ خیال اس وقت آیا جب میں نے ایک فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروائی۔ پھر سوچا کہ میرے لیے بھی ایک جگہ ہونی چاہیے۔ میں اپنے کئی قریبی دوستوں، عزیزوں، خاندان کے افراد اور اپنی والدہ کو کھو چکا ہوں، اسی لیے موت کا خیال ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے۔ میری صرف یہی دعا ہے کہ اللہ مجھے پُرسکون موت عطا فرمائے۔
یہ بھی پڑھیں: عطااللہ عیسیٰ خیلوی کس کے لکھے گانے گا کر مشہور ہوئے؟
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔ ایک صارف نے لکھا قبر پہلے سے بنوانا درست نہیں البتہ کفن کی تیاری کی جا سکتی ہے۔
ایک اور نے تبصرہ کیا صرف قبر تیار کر لینا کافی نہیں، اصل تیاری آخرت کی ہونی چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ان کا ایمان مضبوط ہے، ہم تو قبر کا ذکر کرنے سے بھی گھبراتے ہیں جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا قبر بنانے کے بجائے اگر اولڈ ایج ہوم بنا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عطااللہ عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی قبر قبر گلوکار ویڈیو وائرل