دنیا کا مہنگا ترین پنیر 42 ہزار ڈالر میں نیلام، گینیز ورلڈ ریکارڈ قائم
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میڈرڈ: اسپین کے مشہور کیبرالس پنیر نے نیلامی میں 42 ہزار 232 ڈالر میں فروخت ہوکر دنیا کا سب سے مہنگا پنیر ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ یہ منفرد ریکارڈ گینیز ورلڈ ریکارڈز نے باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔
یہ شاندار پنیر اینجل ڈیاز ہیریرو چیز فیکٹری میں تیار کیا گیا اور ریگولیٹری کونسل ڈی او پی کیبرالس کے تحت نیلامی کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ نیلامی میں ایل لیگر ڈی کولوٹو نامی ایک معروف ریسٹورنٹ نے سب سے زیادہ بولی دے کر اسے خرید لیا۔
گائے کے دودھ سے تیار کیے گئے اس پنیر کا وزن 2.
گینیز حکام کے مطابق یہ نیلامی اب تک دنیا میں پنیر کی سب سے بڑی بولی کے طور پر ریکارڈ کی گئی ہے، جو نہ صرف کیبرالس پنیر کی عالمی مقبولیت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اسپین کی پنیر سازی کی قدیم روایات کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔