90 روزہ تحریک کا شوشہ بانی کی رہائی کیلئے نہیں کے پی حکومت بچانے کیلئے ہے: امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
امیر مقام—فائل فوٹو
وفاقی وزیرِ امور کشمیر امیر مقام نے وزیرِ اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کے بیان پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کی میز سے ہمیشہ بھاگ جانے والے پھر مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گنڈاپور خود بے اختیار ہیں، 90 روز کی تحریک کا شوشہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے نہیں، یہ شوشہ کے پی حکومت بچانے کے لیے ہے جسے خود پی ٹی آئی کے اندر سے خطرہ ہے۔
امیر مقام نے کہا کہ مذاکرات کی بات کر کے 90 روز کی تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی فلاپ ہو چکی، 90 روز کا اعلان اعتراف شکست اور فائنل کال سے بھی برے انجام کا آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ 90 روز کی تحریک کا اعلان جنرل ضیاء کے 90 دن میں الیکشن کرانے کے اعلان جیسی ہے، 9 مئی کرنے والے اب 90 روز کی تحریک چلانے نکلے ہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ یہ کوئی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں عوام انہیں مسترد کر چکے ہیں، قوم نے ان کے دھرنوں، لانگ مارچ اور تشدد کے ایجنڈے کو مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی اور ان کے ساتھی ایک بار پھر قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، موجودہ حکومت آئین، قانون اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔
وفاقی وزیرِ امور کشمیر نے کہا کہ اگر بانیٔ پی ٹی آئی واقعی مذاکرات چاہتے ہیں تو پہلے قانون کے سامنے سر جھکائیں، بانیٔ پی ٹی آئی غلطیوں کا اعتراف کریں اور نفرت کی سیاست سے توبہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام خیبر پختون خوا میں11 سال کی حکومت کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں، لاہور میں آپ نے ترقی دیکھی اور اپنے صوبے میں کچھ نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ روز کی تحریک پی ٹی آئی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔