دہلی کار دھماکہ، الفلاح یونیورسٹی کے بانی جاوید احمد صدیقی کو 14 روزہ عدالتی تحویل میں بھیجا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
لال قلعہ دھماکہ کیس میں گرفتار تین ڈاکٹروں کا الفلاح یونیورسٹی سے تعلق پایا گیا جسکے بعد یونیورسٹی کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئیں۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کی ساکیت عدالت نے الفلاح یونیورسٹی کے بانی جاوید احمد صدیقی کو لال قلعہ کار بم دھماکہ معاملے میں 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج شیتل چودھری پردھان نے صدیقی کو 15 دسمبر تک عدالتی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا۔ جاوید احمد صدیقی کی "ای ڈی" کی حراست آج ختم ہو رہی تھی، جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے 19 نومبر کو صدیقی کو "ای ڈی" کی حراست میں دیا تھا۔ جاوید احمد صدیقی کو "ای ڈی" نے 18 نومبر کی صبح تقریباً ایک بجے پیش کیا تھا۔ فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی لال قلعہ کار دھماکے کے بعد سے تحقیقاتی ایجنسیوں کے ریڈار پر ہے۔ لال قلعہ دھماکہ کیس میں گرفتار تین ڈاکٹروں کا الفلاح یونیورسٹی سے تعلق پایا گیا جس کے بعد یونیورسٹی کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ ای ڈی نے جاوید احمد صدیقی کو دہشتگردی کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
این آئی اے نے اس معاملے میں اب تک سات ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ 18 نومبر کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے لال قلعہ دھماکہ کیس کے ملزم اور خودکش بمبار ڈاکٹر محمد عمر نبی کے ساتھی جسیر بلال وانی عرف دانش کو دس دن کے لئے "این آئی اے" کی تحویل میں دے دیا۔ این آئی اے نے دانش کو سرینگر سے گرفتار کیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق دانش نے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کیں اور کار بم دھماکے سے قبل راکٹ کو تیار کرنے کی کوشش کی۔ این آئی اے کا دعویٰ ہے کہ بلال وانی عرف دانش نے عمر نبی کے ساتھ مل کر پوری سازش کو انجام دینے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق دانش پولیٹیکل سائنس میں گریجویٹ ہے، ڈاکٹر محمد عمر نے اسے خودکش بمبار بننے کے لئے برین واش کیا۔ انہوں نے اکتوبر 2024ء میں کولگام کی ایک مسجد میں ڈاکٹر ماڈیول سے ملنے پر اتفاق کیا، جہاں سے انہیں ہریانہ کے فرید آباد میں الفلاح یونیورسٹی میں قیام کے لئے لے جایا گیا۔
بلال وانی عرف دانش کو پہلے جموں و کشمیر پولیس نے حراست میں لیا تھا اور پوچھ گچھ کے دوران انکشاف کیا کہ ماڈیول کے دیگر ارکان اسے کالعدم جیش محمد کے لئے اوور گراؤنڈ ورکر (او جی ڈبلیو) کے طور پر بھرتی کرنا چاہتے تھے، جبکہ ڈاکٹر محمد عمر کئی مہینوں سے اسے خودکش بمبار بننے کے لئے برین واش کر رہا تھا۔ این آئی اے کے مطابق محمد عمر کی کوشش اس سال اپریل میں ناکام ہوگئی جب بلال وانی عرف دانش نے اپنی خراب مالی حالت اور خودکشی سے متعلق اسلام کے نظریہ کا حوالہ دیتے ہوئے انکار کر دیا۔ اس سے پہلے ملزم عامر رشید علی کو این آئی اے نے 16 نومبر کو گرفتار کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جاوید احمد صدیقی کو بلال وانی عرف دانش الفلاح یونیورسٹی یونیورسٹی کے گرفتار کیا آئی اے تحویل میں لال قلعہ کیا تھا کے بعد کے لئے
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد: سیکیورٹی فورسز نے مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گردوں کو ہلاک اور متعدد کو گرفتار کرلیا. گرفتار شدگان میں سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کامیابی سے جاری ہے. سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں تیز کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کردیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد وں کو جہنم واصل کر دیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی سیکیورٹی فورسز کی اس کارروائی کے دوران متعدد دہشت گردوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا. گرفتار دہشت گردوں میں سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کاروائی میں دہشت گردوں کی متعدد کمین گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں. کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا۔آپریشن کے دوران علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے. حالیہ دنوں میں مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں دہشتگردوں کی مذموم کاروائیوں کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تیز کر دیے گئے ہیں۔