چینی نائب وزیرخارجہ سے ملا قات : بزنس تعاون سے سی پیک کا دائرہ سیع ہوگا : احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
اسلام آباد+بیجنگ (نمائندہ خصوصی +این این آئی+ نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی میں چین نے پاکستان کی غیر مشروط حمایت جاری رکھی۔ پاکستان عوام چین کی قیادت اور عوام کی لازوال دوستی پر ناز کرتے ہیں۔ سی پیک کا سفر کاغذ سے اربوں ڈالر کے منصوبے تک پہنچا ہے۔ پاک چین دوستی بدلتے حالات اور ہر دور میں نئی توانائی کے ساتھ مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے نائب وزیر خارجہ سن ویڈونگ سے ملاقات کے دوران کیا۔ قبل ازیں چینی نائب وزیر خارجہ نے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا پرتپاک استقبال کیا اور ملاقات میں باہمی دلچسپی، سی پیک فیز ٹو کے تحت صنعتی اور بزنس ٹو بزنس تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں وزراء نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام چین کی قیادت تک پہنچایا۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ سن ویڈونگ کے پاکستان میں زمانہ سفارت کاری کے دوران ہم نے سی پیک کا سفر اربوں ڈالر کے منصوبے تک پہنچایا۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ چین کی ترقی کا ماڈل ہمارے لئے مشعل راہ ہے، پاکستان چین کے تجربات سے مستفید ہو کر برآمدات اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر معیشت کی تشکیل کی جانب گامزن ہے۔ اڑان پاکستان کا فائیو ایز فریم ورک سی پیک فیز ٹو کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔ اڑان پاکستان کا مرکزی مقصد عوام دوست اصلاحات کے ذریعے معاشی، سماجی اور معاشرتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو میں صنعتی و تکنیکی شعبے اہم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی قیادت عالمی امن کے لئے مثالی کردار ادا کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ہماری ترجیح ایک باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری ہے۔ بزس ٹو بزنس تعاون سے سی پیک کا دائرہ کار وسیع ہو گا۔ سن ویڈونگ نے کہا کہ چین مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کیلئے پرعزم ہے۔ پاکستان کے فائیو ایز فریم ورک سے معاشی استحکام اور خود انحصاری کے امکانات روشن ہیں۔ سی پی منصوبوں میں قائدانہ اور کلیدی کردار چین میں احسن اقبال کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: احسن اقبال نے سی پیک کا نے کہا کہ چین کی
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں