اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کی منظوری دے دی، مزید خونریزی کا خدشہ WhatsAppFacebookTwitter 0 8 August, 2025 سب نیوز

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل کی فوج نے آج صبح غزہ کے شمالی حصے میں رہائشیوں کو جبری انخلا کا حکم دے دیا ہے جس سے فوجی آپریشن میں وسعت کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ حماس نے واضح کیا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کا قبضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

امریکی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق یہ فیصلہ حماس کے سات اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد سے جاری اسرائیل کی 22 ماہ کی جوابی کارروائیوں میں مزید شدّت کی عکاسی کرتا ہے۔

سکیورٹی کابینہ کے اجلاس سے قبل فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں جب بنیامین نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل غزہ کے تمام علاقوں کا کنٹرول سنبھال لے گا، تو ان کا جواب تھا کہ ہم وہاں سے حماس کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے غزہ کی آبادی کو آزادی دلانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس پر تسلط نہیں چاہتے، ہم اسے عرب افواج کے حوالے کرنا چاہتے ہیں جو ہمیں دھمکی دیے بغیر اس پر صحیح طریقے سے حکومت کریں گی اور غزہ والوں کو اچھی زندگی دیں گی۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے ملٹری چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے غزہ پر قبضے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ یرغمالیوں کو خطرے میں ڈالے گا اور تقریباً دو سال کی جنگ کے بعد فوج پر مزید دباؤ ڈالے گا۔

ادھر یرغمالیوں کے بہت سے خاندان بھی اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ انہیں یہ خدشہ ہے کہ مزید کشیدگی ان کے پیاروں کو برباد کر سکتی ہے اور ان میں سے کچھ افراد نے یروشلم میں سکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے باہر احتجاج کیا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ اس شہر میں کتنے لوگ رہتے ہیں کیونکہ جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں لاکھوں افراد انخلا کے احکامات کے تحت غزہ شہر سے چلے گئے تھے، تاہم بہت سے افراد رواں سال کے آغاز میں جنگ بندی کے دوران یہاں واپس لوٹ آئے تھے۔

غزہ میں فوجی کارروائیوں کو وسعت دینے سے بےشمار فلسطینیوں اور تقریباً 20 اسرائیلی یرغمالیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی اور اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر مزید تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل پہلے ہی تباہ شدہ علاقے کے تقریباً تین چوتھائی حصے پر قابض ہے۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے اس سے قبل کہا تھا کہ سکیورٹی کابینہ غزہ کے تمام یا ان حصوں پر قبضہ کرنے کے منصوبوں پر غور کرے گی جو ابھی تک اسرائیلی کنٹرول میں نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل کی فضائی اور زمینی جنگ نے غزہ میں ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے، زیادہ تر آبادی کو بے گھر کر دیا ہے، وسیع علاقوں کو تباہ کر دیا ہے اور وسیع پیمانے پر خوراک کا بحران ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستانی سفیر کی پاک-چین تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی خواہش سپریم کورٹ، بحریہ ٹاون کی نیلامی کیخلاف اپیلیں کل سماعت کیلئے مقرر تعلیم اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کو فروغ دینے کیلئے او پی ایف کالج ایف الیون2 میں اے آئی اسمارٹ کلاس رومز، اسمارٹر لرننگ کے.

.. ایف بی آر میں پاکستان کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو کے90سے زائد افسران کے تبادلے پی ٹی آئی کا 14 اگست کے احتجاج کا انجام 5اگست سے بھی برا ہوگا، شیر افضل مروت نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، الیکشن کمیشن کیخلاف عدالت جاوں گی، سینیٹر مشال یوسفزئی قیام امن کیلئے مشرق وسطی کے تمام ممالک ابراہم معاہدے میں شامل ہوں، ٹرمپ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سکیورٹی کابینہ اسرائیل کی

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن