بھارتی فضائی حدود کی بندش سے 4 ارب 10 کروڑ روپے کے نقصان کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 اگست ۔2025 )پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کو بھارت کے لیے فضائی حدود کی بندش سے 4 ارب 10 کروڑ روپے خسارے کا انکشاف ہوا ہے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے تحریری جواب میں ایوان کو بتایا کہ ایئرپورٹس اتھارٹی کو فضائی حدود کی بندش سے 4 ارب 10 کروڑ روپے خسارہ ہوا، پاکستان کی فضائی حدود 24 اپریل سے 30 جون 2025 تک بند رہی اور تمام بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت واپس لی گئی.
(جاری ہے)
وزیر دفاع نے تحریری جواب میں بتایا کہ فضائی حدود کی بندش کے باعث یومیہ 100 سے 150 بھارتی طیارے متاثر ہوئے، فضائی ٹریفک میں تقریباً 20 فیصد کی کمی واقع ہوئی، 2019 میں بھی فضا حدود کی بندش کے نتیجے میں پی آئی اے کو خسارے کا سامنا کرنا پڑا، پی اے اے کو اوور فلائنگ آمدن کی مد میں تقریباً 7 ارب 60 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا. انہوں نے بتایا کہ پاک-بھارت تنازع کے دوران فضائی حدود کی بندش سے پاکستان کو کچھ مالی نقصان برداشت کرنا پڑا، قومی خود مختاری اور دفاع کو معاشی مفاد پر مقدم تصور کیا جاتا ہے، وطن عزیز کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے خواجہ آصف نے بتایا کہ بھارتی طیاروں کے سوا پاکستان کی فضائی حدود تمام ایئر لائنز کے لیے کھلی ہیں، پاکستانی ایئر لائنز اور طیاروں پر بھی بھارتی فضائی حدود میں پرواز پر پابندی عائد ہے، 2019 میں کشیدگی سے قبل اوور فلائنگ کی اوسط یومیہ آمدنی 5 لاکھ 8 ہزار امریکی ڈالر تھی. انہوں نے کہا کہ قومی خود مختاری اور سلامتی کے دفاع کا معاملہ ہو تو کوئی قیمت زیادہ نہیں ہوتی، اس عارضی تعطل کے باوجود پی اے اے نے مالیاتی استحکام کا مظاہرہ کیا دریں اثنا، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے مس انفارمیشن کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران فیک نیوز میں اضافہ ہوا، اے آئی کے آنے سے یہ مسئلہ مزید سنگین ہوگیا ہے. انہوں نے بھارتی میڈیا کو سچ نہ بولنے کا عادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا میں اخلاقیات موجود ہیں، جبکہ ملک میں پہلا ڈیجیٹل کمیونیکیشن محکمہ قائم کر دیا گیا ہے اجلاس میں وکیل شمس الاسلام کے قتل کے کیس پر بھی بات ہوئی، شہریار آفریدی نے کا کہنا تھا کہ قاتل کے اہلِ خانہ کی خواتین کو پولیس نے حراست میں لیا، جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یقین دہانی کرائی کہ خواتین کو ہراساں نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ بدلہ لینا کسی شہری کا حق نہیں بلکہ یہ حق ریاست کا ہے اجلاس بروز پیر شام 5 بجے تک ملتوی کردیا گیا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فضائی حدود کی بندش سے کروڑ روپے بتایا کہ انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
پاکستان میں ہر 45 منٹ بعد ایک خاتون حمل سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث جان سے محروم ہوجاتی ہے، ماں کی زندگی بچانے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی اور صحت کی سہولیات تک رسائی ضروری ہے۔
جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے شعبہ امراض نسواں وارڈ 9-B کے اشتراک سے چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین صحت، محققین، پالیسی سازوں اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
سمٹ کا موضوع ’’نوجوان، خاندانی منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل جدت‘‘ تھا، جس کا مقصد زچہ و بچہ کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید اور مؤثر حکمت عملیوں پر غور کرنا تھا۔
سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ سندھ حکومت زچگی کی سہولیات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے، پرانی ڈسپنسریوں کو برتھنگ اسٹیشنز میں تبدیل کیا جارہا ہے، جبکہ کمیونٹی مڈوائفز کو محفوظ طریقے سے گھروں میں زچگی کی خدمات فراہم کرنے کے لیے تربیت دی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیچیدہ اور ہنگامی زچگی کے کیسز کو بروقت اسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس سسٹم کو مزید مؤثر بنایا جارہا ہے، جبکہ صحت کے مراکز پر ادویات اور ضروری طبی سامان کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے سپلائی چین کے نظام میں بھی بہتری لائی جارہی ہے، تاکہ بنیادی سطح پر کام کرنے والے طبی عملے کو مریضوں کی جان بچانے کے لیے تمام ضروری سہولیات دستیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں میڈیا کی موجودگی کی اجازت نہیں ہوتی، میڈیا سے بات کرنے کے خواہشمند ڈاکٹر اور دیگر افراد اسپتال سے باہر آ کر اپنا مؤقف دیں۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ اسپتالوں کی خامیوں کی نشاندہی کریں، کیونکہ آپ کی نشاندہی سے ہی ہمیں مدد ملتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام ڈاکٹرز کو میڈیا سے بات کرنے اور اپنا مؤقف دینے کی اجازت ہے، ڈاکٹرز میڈیا کو مؤقف دیں اور تمام حقائق سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جناح اسپتال کے مسائل کے لیے ڈاکٹر خالد شیر سے رابطہ کریں، میں نے ڈاکٹر خالد شیر کو کہہ دیا ہے کہ اب سے وہ میڈیا کو مؤقف دیں گے۔
کراچی میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں جاری چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ آج میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ سندھ کیا کر رہا ہے، سندھ حکومت کیا کر رہی ہے، اور سندھ اس حوالے سے ملک میں سب سے آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سے ایسے قوانین بنائے ہیں جو کہیں اور موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی سیکشن کی وجہ سے سندھ میں شرحِ اموات بڑھ رہی ہے، ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور بہت جلد اس کے نتائج نظر آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو خاتون تیسرے سی سیکشن کے بعد آئے، اس کی ٹی ایل کر دینی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود نہیں، اس لیے اس میں بہتری کے لیے پیدائشی اسٹیشن سینٹرز بنائے جا رہے ہیں۔
وزیر جامعات و بورڈ اسماعیل راؤ نے سمٹ کے انعقاد پر پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، اعلیٰ تعلیمی اداروں کا مقصد صرف ڈگریاں دینا نہیں بلکہ نوجوانوں میں تولیدی صحت، ذمہ دارانہ فیصلوں اور صحت سے متعلق آگاہی کا شعور بھی اجاگر کرنا ہے۔
وائس چانسلر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور چیف پیٹرن پروفیسر امجد سراج میمن نے مردانہ مانع حمل طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبادی پر قابو پانے کے لیے ویزیکٹومی ایک اہم ذریعہ ہے، اس حوالے سے آگاہی اور تمام اسپتالوں میں سہولیات کی دستیابی یقینی بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ویزیکٹومی کے کیسز 2021 میں 24 سے بڑھ کر 2025 میں 4 ہزار سے تجاوز کرگئے ہیں، جس رجحان کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
چیف آرگنائزر پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ، پرو وائس چانسلر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور سربراہ شعبہ امراض نسواں وارڈ 9-B، جے پی ایم سی نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں سالانہ تقریباً 60 لاکھ افراد کا اضافہ ہورہا ہے، جبکہ مانع حمل طریقوں کا استعمال صرف 34 فیصد ہے اور 17.8 فیصد افراد کی خاندانی منصوبہ بندی کی ضروریات پوری نہیں ہورہیں۔
انہوں نے کہا کہ سمٹ کا مقصد نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل ذرائع اور درست معلومات سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنی صحت اور مستقبل سے متعلق باخبر اور ذمہ دارانہ فیصلے کرسکیں۔سمٹ میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر ڈاکٹر خالد شیر سمیت دیگر ماہرین، محققین اور پالیسی سازوں نے بھی شرکت کی۔
مقررین نے زچہ و بچہ کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی میں توازن کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں ہر 45 منٹ بعد حمل اور زچگی سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث ایک خاتون کی موت کا مسئلہ انتہائی تشویشناک ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بروقت طبی امداد، محفوظ زچگی، خاندانی منصوبہ بندی اور بنیادی صحت کی سہولیات تک آسان رسائی کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔
سمٹ میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ’’ماں رہے سلامت‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ پاکستان کے بہتر عوامی صحت کے مستقبل کے لیے ایک مستقل اور متحد قومی ترجیح بننا چاہیے۔