’چھ سال بعد سٹکرز سےوقفہ‘، ہونڈا کی نئی موٹر سائیکل CG 150 میں کیا خاص ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کی معروف موٹرسائیکل بنانے والی کمپنی اٹلس ہونڈا ہر سال اپنی موٹرسائیکلوں کے نئے ماڈل متعارف کرواتی ہے لیکن عوام میں دلچسپی کا عنصر صرف نئے اسٹیکرز تک ہی محدود نظر آتا ہے۔
تاہم چھ سال کے وقفے کے بعد اٹلس ہونڈا اس بار سٹیکرز سے دور ہو گیا ہے اور واقعی مارکیٹ میں ایک نئی موٹر سائیکل متعارف کرائی ہے۔ اس نئے ماڈل کا نام CG150 ہے۔
PakWheels کے مطابق CG150 کی قیمت 459,900 روپے رکھی گئی ہے۔ اس قیمت پر یہ موٹرسائیکل براہ راست سوزوکی جی ایس 150 سے مقابلہ کرے گی جو نہ صرف انجن کے لحاظ سے ایک جیسی ہے بلکہ سی جی 150 سے بھی کم مہنگی ہے۔
اس کے علاوہ یاماہا YBR 125 بھی اس قیمت پر پاکستان میں دستیاب ہے جس میں 125cc انجن ہے تاہم قیمت تقریباً CG150 جیسی ہے۔
اٹلس ہونڈا نے ابھی تک سرکاری طور پر CG15 انجن کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں لیکن PakWheels کے مطابق بیرونی ڈیزائن اور خصوصیات سے پتہ چلتا ہے کہ CG150 اسی 150cc OHC انجن سے لیس ہے جو ہونڈا کے CB150F میں استعمال ہوتا ہے۔
Honda CG 150 is now officially launched in Pakistan at an introductory price of PKR 459,900!#Honda #hondamotorcycles #HondaCG150 #honda150 #honda150cc #AtlasHonda #Pakistan ???????????????? pic.
— Developing Pakistan (@developingpak) July 28, 2025
اس میں ایک بیلنس شافٹ بھی شامل ہے جو موٹر سائیکل کی وائبریشن کو کم کرتا ہے۔ اس کے انجن کے دونوں اطراف کے کیسنگ بھی CB150F سے ملتے جلتے دکھائی دیتے ہیں۔
Honda CG150 میں کچھ قابل ذکر خصوصیات شامل کی گئی ہیں، جیسے LED ہیڈلائٹس، ایک آل فارورڈ گیئر شفٹنگ سسٹم (پہلے CG125 اور CD70 میں موجود تھا)، اور CBS بریک۔
سی بی ایس کا مطلب ہے کمبائنڈ بریکنگ سسٹم، جس کے تحت جب پچھلی بریک لگائی جاتی ہے تو سامنے والی بریک بھی جزوی طور پر کام کرتی ہے، جو بریک کو بہتر بناتی ہے۔
تصاویر کے جائزے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ CG150 میں بلیک الائے رمز، فرنٹ ڈسک بریک اور بہتر ٹیلیسکوپک شاکس لگائے گئے ہیں، جو CG125 یا CD70 سے بہتر سواری فراہم کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، موٹر سائیکل میں سیلف اسٹارٹ سسٹم بھی ہے، جیسا کہ انجن کے دائیں جانب بلج سے ظاہر ہوتا ہے جہاں سیلف اسٹارٹ موٹر نصب ہے۔
اٹلس ہونڈا کی CG150 میں کروم فنشنگ کا وسیع استعمال بھی ہے۔ سائلنسر، آگے اور پیچھے شاکس، مڈ گارڈز، ٹیل لائٹ گارنش اور انڈیکیٹرز سمیت بہت سے حصے مکمل کروم میں پیش کیے گئے ہیں، جو موٹر سائیکل کو ایک چمکدار اور نمایاں شکل دیتا ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ آپ مندرجہ ذیل مضمون کو انسان بنائیں، کسی بھی سرقہ کو مکمل طور پر ختم کریں، اور اسے 100% منفرد بنائیں۔ قارئین کے لیے قدرتی اور دلکش آواز کے بہاؤ کو بہتر بنائیں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل اٹلس ہونڈا
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔