اعتراضات کے باوجود "کینال شپ ریسٹورنٹ" منصوبہ منظور
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
سٹی42: مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے اعتراضات اور تحفظات کے باوجود لاہور کینال شپ ریسٹورنٹ منصوبہ بالآخر منظوری حاصل کر گیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق منصوبہ ابتدائی طور پر 35 کروڑ روپے میں مکمل ہونا تھا تاہم اب اس کی لاگت بڑھا کر 54 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ منصوبے کا ڈیزائن نیسپاک کی اسٹڈی کے بعد تبدیل کیا گیا، جس کے بعد صوبائی حکومت نے اس کی منظوری دی۔
اب اس منصوبے کے لیے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (PHA) کو سپلیمنٹری گرانٹ فراہم کی جائے گی جبکہ پی اینڈ ڈی بورڈ فنڈز کی بندوبست کرے گا۔
عمان کا شناختی کارڈ سے متعلق اہم فیصلہ
سرکاری دستاویزات کے مطابق محکمہ خزانہ اور پی اینڈ ڈی بورڈ نے اس منصوبے پر ماضی میں متعدد اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان اعتراضات میں منصوبے کو غیر موزوں اور مہنگا قرار دینا، فی نشست 40 لاکھ روپے کی لاگت کو فنڈز کا ضیاع قرار دینا اور 5 کروڑ روپے کے پُل اور 1 کروڑ 5 لاکھ روپے کے سیلفی پوائنٹ پر اعتراض شامل تھے۔
اب منظوری کے بعد منصوبے پر اضافی لاگت کے ساتھ کام شروع ہوگا، پی ایچ اے کو سپلیمنٹری گرانٹ دی جائے گی اور منصوبے کے فنڈز کا بندوبست پی اینڈ ڈی بورڈ کرے گا۔
یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کی بارسلونا میں قیمتی گاڑی چھین لی گئی
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔