بغداد(انٹرنیشنل ڈیسک) عراق اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، اور اسی ہیٹ ویو کے دوران ملک کو بڑے پیمانے پر بجلی کے بریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ درجہ حرارت کئی شہروں میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ لہر ایک ہفتے سے بھی زیادہ جاری رہ سکتی ہے۔

وزارتِ بجلی کے مطابق غیر معمولی گرمی، صارفین کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ اور بابل و کربلا میں زائرین کی بڑی تعداد نے پاور سسٹم پر بے پناہ دباؤ ڈال دیا۔ اس دباؤ کے باعث دو اہم ٹرانسمیشن لائنیں بند ہو گئیں، جس سے 6 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی اچانک گرڈ سے نکل گئی اور ملک بھر کے متعدد پاور پلانٹس نے کام کرنا بند کر دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ انجینئرنگ ٹیمیں فوری طور پر بحالی کے لیے متحرک ہو گئی ہیں اور اگلے چند گھنٹوں میں مرحلہ وار بجلی کی فراہمی شروع کر دی جائے گی۔ جنوبی صوبوں ذی قار اور میسان میں سپلائی کی بحالی کا عمل جاری ہے، جبکہ اہم بندرگاہی شہر بصرہ میں منگل کی صبح تک بجلی واپس آنے کی توقع ہے۔

عراق میں عام حالات میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ روزمرہ کا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے بیشتر گھروں میں جنریٹرز استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ اس بار بھی ان جنریٹرز نے مکمل بلیک آؤٹ کے اثرات کسی حد تک کم کیے، لیکن یہ ہر گھر کی تمام ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شمالی عراق کا خودمختار کردستان علاقہ اس بحران سے متاثر نہیں ہوا۔ وہاں بجلی کے شعبے میں کی گئی اصلاحات کے نتیجے میں ایک تہائی آبادی کو 24 گھنٹے سرکاری بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ بہتر منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر کس طرح بڑے بحرانوں کے اثرات کو کم کر سکتا ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ