معرکہ حق، یوم آزادی کی تقریبات کا آج آغاز، صدر، وزیراعظم شرکت کرینگے
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معرکہ حق اور یوم آزادی کی مناسبت سے خصوصی تقریبات کا آغاز آج سے ہوگا۔
خصوصی تقریب آج رات 8 بجے جناح سٹیڈیم اسلام آباد میں منعقد ہوگی، صدر مملکت آصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف سمیت وفاقی وزرا اور دیگر اہم شخصیات شریک ہوں گی۔
تقریب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک ہوں گے، جے ایف 17 تھنڈر فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کریں گے،ملی نغمے اور میوزیکل شو بھی ہوگا۔
دوسری جانب تمام اہم سیاسی جماعتوں نے بھی جشن آزادی کی تقریبات پروقار طریقے سے منانے کا اعلان کیا ہے۔
مذکورہ جماعتوں کے قائدین نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ جشن آزادی کے موقع پر بیجا صراف سے گریز اور اپنی رقوم و عطیات غریب، نادار، بے سہارا، یتیموں، مسکینوں، بیوگان اور مستحق افراد کو فراہم کریں تاکہ وہ بھی جشن آزادی کی خوشیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: آزادی کی
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔