صنم سعید لڑکی کم اور لڑکا زیادہ لگتی ہیں، وہ ٹام بوائے جیسی ہیں، پروین اکبر
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
منجھی ہوئی سینیئر اداکارہ پروین اکبر کے اداکارہ صنم سعید کو ٹام بوائے کہنے پر سوشل صارفین میں بحث چھڑ گئی۔
ڈراما انڈسٹری کی سینئر اداکارہ پروین اکبر نے حال ہی میں ایک ٹی وی شو کو انٹرویو میں ابھرتی ہوئی اداکارہ صنم سعید کی تعریف کی لیکن ان کا ایک لفظ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
انھوں نے کہا تھا کہ صنم ایک بہت باصلاحیت اداکارہ ہیں ان کی پرفارمنس ہمیشہ مضبوط اور متاثر کن رہی ہے لیکن میرے نزدیک وہ لڑکی کم اور لڑکا زیادہ لگتی ہیں۔
پروین اکبر نے یہ بات ہلکے پھلکے انداز میں صنم سعید کو ٹام بوائے کہا تھا مگر جیسے ہی یہ کلپ انٹرنیٹ پر وائرل ہوا۔ سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی۔
صنم سعید کو "ٹام بوائے" کہنا کچھ صارفین کو غیر ضروری اور ذاتی حملہ لگا۔ ایک صارف نے لکھا کہ سینئر اداکاراؤں کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔
ایک اور صارف نے پوچھا کہ پہلے عتیقہ اوڈھو اور اب پروین اکبر؟ یہ لائیو اسکرین پر دوسروں کی باڈی شیمنگ کیوں کرتی ہیں؟
ایک صارف نے طنز کیا کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے اور خود ہی دوسری خواتین کی خودمختار شناخت کو محدود کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
دوسرے صارف نے کہا کہ پروین اکبر کے اس تبصرے سے صنفی امتیاز اور دقیانوسی خیالات کو فروغ ملتا ہے۔
اگرچہ ردعمل میں تنقید نمایاں رہی، مگر کئی لوگوں نے پروین اکبر کے اندازِ بیان کو ہلکے پھلکے تبصرے کے طور پر دیکھا۔
ایک صارف نے وضاحت دی کہ پروین اکبر کا مطلب صنم کے منفرد انداز اور اداکاری کی ورسٹائلٹی کو سراہنا تھا۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ پروین اکبر کے بیان کو غلط انداز میں لیا جا رہا ہے۔ ٹام بوائے ان خواتین کو کہا جاتا ہے جو لڑکوں کی طرح کھیلوں میں حسہ لیتیں اور ان جیسے لباس پہننا پسند کرتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پروین اکبر ٹام بوائے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔