سید عاصم منیر سے آذربائیجان کے کریم ولیئیف کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
آئی ایس پی آر کے مطابق آذربائیجان کے چیف آف جنرل سٹاف نے آذربائیجان کے صدر کی جانب سے فیلڈ مارشل کو آذربائیجان کا اعلیٰ عسکری اعزاز عطا کیا، یہ ایوارڈ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین عسکری تعاون میں ان کی شاندار خدمات کا اعتراف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے آذربائیجان کے چیف آف جنرل سٹاف کرنل جنرل کریم ولیئیف نے ملاقات کی جس میں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دونوں راہنماؤں کی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی، ملاقات میں موجودہ عالمی و علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، آذربائیجان کے چیف آف جنرل سٹاف نے معرکۂ حق میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور کامیابی کو سراہا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق وفد نے یوم آزادی اور فتح کی تقریبات کے موقع پر نیک خواہشات کا اظہار کیا، اس موقع پر فیلڈ مارشل نے آذربائیجان کی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا، فیلڈ مارشل نے آذربائیجان کا معرکۂ حق کے دوران پاکستانی عوام کی حمایت اور یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کیلئے آذری دستہ بھیجنے پر بھی شکریہ ادا کیا۔ کرنل جنرل کریم ولیئیف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو " پیٹریاٹک وار میڈل برائے خدمات برائے فوجی تعاون " عطا کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کرنل جنرل کریم ولیئیف نے صدر الہام علیئیف کی جانب سے آذربائیجان کا اعلیٰ عسکری اعزاز عطا کیا، یہ ایوارڈ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین عسکری تعاون میں ان کی شاندار خدمات کا اعتراف ہے۔کرنل جنرل کریم ولیئیف نے دہشتگردی کے خاتمے میں پاکستان کی غیر متزلزل کوششوں کو سراہا، انہوں نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے کے آذربائیجان کے عزم کو دہرایا، معزز مہمان نے پاکستان کی شاندار میزبانی اور آذربائیجان کیلئے مستقل حمایت پر شکریہ بھی ادا کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو آمد پر کرنل جنرل کریم ولیئیف کو پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا، کرنل جنرل کریم ولیئیف نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرنل جنرل کریم ولیئیف نے آذربائیجان کے فیلڈ مارشل کے مطابق ایس پی
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔