فلسطینی ریاست کے قیام میں رکاوٹ ڈالنا عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، سعودی عرب
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
سعودی عرب نے فلسطینی ریاست کے قیام میں رکاوٹ ڈالنے کو بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میںمقبوضہ یروشلم میں یہودی آباد کاروں کے لیے جاری غیر قانونی تعمیرات کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیلی ریاست میں ضم کرنے کا فیصلہ، دو ریاستی حل کو سبوتاژ کرنے کی ایک منظم کوشش ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں دیرینہ تنازعے کے حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔”
وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یہ اقدامات اسرائیل کی غیر قانونی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو ظاہر کرتے ہیں جو عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
سعودی عرب نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا قانونی، اخلاقی اور انسانی کردار ادا کریں۔
بیان میں غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کو فوری طور پر بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے اور زور دیا گیا ہے کہ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔