سیلاب سے جانی نقصان: پیوٹن کا صدر زرداری کو خط، ترکیہ و مصر کا بھی اظہارِ افسوس
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن—فائل فوٹوز
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے نام تعزیتی خط لکھا ہے جس میں انہوں نے پاکستان میں سیلاب سے جانی نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
خط میں روسی صدر پیوٹن نے خیبر پختونخوا میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
روسی صدر نے خط میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا ہے۔
خیبر پختون خوا میں 6 گھنٹوں میں بارشوں اور سیلاب کے باعث حادثات میں مزید 145 افراد جاں بحق ہو گئے۔
دوسری جانب ترکیہ نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔
ترک وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے جانی نقصانات پر گہرے رنج میں ہیں۔
ترک وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ سیلاب میں جان سے جانے والوں کے لیے مغفرت کی دعا ہے، ان کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں۔
ادھر مصر نے بھی پاکستان میں سیلاب سے جانی نقصان پر اظہارِ افسوس کا پیغام جاری کیا ہے۔
مصری وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب متاثرین کے ساتھ گہری ہمدردی ہے، زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دُعاگو ہیں۔
مصرکی وزارتِ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاکستان میں سیلاب سیلاب سے جانی کیا ہے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔