آسٹریلیا نے انتہا پسند اسرائیلی سیاستدان سیمخا روتھ مین پر پابندی لگادی
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
آسٹریلوی حکومت نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان سیمخا روتھ مین کا ویزا منسوخ کر دیا ہے۔
روتھ مین آسٹریلین جیوش ایسوسی ایشن کی دعوت پر آسٹریلیا کا دورہ کرنے والے تھے، تاہم حکومتی فیصلے کے بعد وہ آئندہ تین سال تک آسٹریلیا کا سفر نہیں کر سکیں گے۔
وزیر داخلہ ٹونی برک نے اپنے بیان میں کہا کہ آسٹریلیا ایسے افراد کو خوش آمدید نہیں کہے گا جو ’’نفرت اور تقسیم‘‘ کا پیغام پھیلائیں۔
انہوں نے کہا: ’’آسٹریلیا ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر شخص محفوظ ہے اور ہر کسی کو خود کو محفوظ محسوس کرنے کا حق ہے‘‘۔
دوسری جانب، روتھ مین کی مجوزہ تقاریر کے منتظمین نے ویزا منسوخی کو ’’انتہائی سامیت دشمنی‘‘ قرار دیا ہے۔ آسٹریلین جیوش ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو رابرٹ گریگوری نے الزام عائد کیا کہ آسٹریلوی حکومت یہودی برادری اور اسرائیل کو نشانہ بنانے کے ’’جنون‘‘ میں مبتلا ہے۔
روتھ مین اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے رکن ہیں اور وہ سخت گیر نظریات رکھنے کے باعث بین الاقوامی سطح پر متنازع شخصیت تصور کیے جاتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روتھ مین
پڑھیں:
غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
اسرائیلی قابض جنگی طیاروں نے وسطی غزہ کی پٹی میں بوریج کیمپ میں ایک مسجد اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو فضائی حملے میں تباہ کردیا ہے۔
صفا نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے بوریج پناہ گزین کیمپ کے جنوب مشرق میں بلاک 9 میں مسجد النور اور اس کے آس پاس کے علاقے کو تباہ کر دیا۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے جبالیہ پناہ گزین کیمپ پولیس اسٹیشن کے قریب ایک مکان کو بھی نشانہ بنایا۔
مقامی میڈیا نمائندے نے کہا کہ اسرائیلی جنگی طیارے غزہ کی پٹی کے متعدد علاقوں پر کم اونچائی پر پرواز کر رہے ہیں۔
غزہ شہر کے مشرق میں واقع زیتون محلے کے کچھ حصوں کے لیے بھی انخلا کی وارننگ جاری کی گئی جو کہ کئی دنوں سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی زد میں ہے، نیز شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیہ پروجیکٹ کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
مسلسل اسرائیلی بمباری نے خطے میں بڑے پیمانے پر خوف و ہراس کو جنم دیا ہے جبکہ رہائشیوں کو متاثرہ علاقوں سے انخلا پر مجبور کیا جارہا ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں کارروائیاں اور حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔