مرزا عرفان بیگ پرائم منسٹر معائنہ کمیشن کے ممبر مقرر
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر اعظم نے مرزا محمد عرفان بیگ کو 12 اکتوبر سے 2 سال کیلئے کنٹریکٹ پر پر ائم منسٹر معائنہ کمیشن کا ممبر مقرر کر دیا۔
ڈاکٹر کاشف حسین اوورسیز سے وزارت صحت میں اہم پوزیشن پر تعینات ، عبدالقادر ( پی اے ایس ۔ گریڈ 19 ) بلوچستان سے خیبرپختونخوا ٹرانسفر، تقرر کے منتظر کاشف نبی (پی اے ایس۔ گریڈ 18) کی خدمات سندھ حکومت کے سپرد، گلگت بلتستان میں تعینات آصف نواز ((پی اے ایس۔ گریڈ 18)) پروونشل کوارڈینٹر برائے ای فور ایچ پروگرام پنجاب پراجیکٹ تعینات، سیکشن افسر نثار عظمت کا اسٹیبلشمنٹ سے ہاؤسنگ ڈویژن، مینجرHBFC اکرام اللہ خان سیکشن افسر خزانہ ڈویژن، اکاؤنٹس افسر، نجکاری کمیشن سہیل احمد سیکشن افسر وزارتِ منصوبہ بندی، سیکشن افسر علی حسنین کا وزارتِ منصوبہ بندی سے CDA تبادلہ کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکشن افسر
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔