ایک ماہ میں گندم اور اٹے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا،چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسویسی ایشن
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشنز جنید عزیز کا کہناہے کہ ایک ماہ میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیاہے ۔
تفصیلات کے مطابق یکم اگست سےابتک گندم کی قیمت میں 35 روپے، آٹے کی قیمت میں 29 روپے کلواضافہ ہوا، یکم اگست کو گندم کی قیمت 62 روپے کلو تھی جو یکم ستمبر کو 97 روپے کلو ہوگئی، یکم اگست کو ڈھائی نمبر آٹا 76 روپے کلو تھا جو آج 99 روپے کلو ہوگیا ہے، یکم اگست کو فائن آٹا 79 روپے کلوتھا جو آج 108 روپے کلو ہوگیا ہے۔
جنیدعزیز کا کہناتھا کہ مقامی مارکیٹ میں گندم کی قیمت 96 روپے کلو، عالمی مارکیٹ میں یہ قیمت 85 روپے ہے، پاکستان میں آج عالمی مارکیٹ سے گندم 10 روپے فی کلو مہنگی ہے، سندھ حکومت اگلے ہفتے گندم ریلیز کرتی ہے تو بازارمیں گندم کی قیمتیں کم ہوسکتی ہے، حکومت کو رواں برس کم سے کم 15 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرنی پڑے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گندم کی قیمت یکم اگست روپے کلو
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔