وزیرِ اعظم شہباز شریف کامیاب دورۂ سعودی عرب کے بعد وطن واپس روانہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اپنا دورۂ سعودی عرب مکمل کرکے ریاض سے اسلام آباد روانہ ہوگئے۔
ریاض کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر الوداع کیا۔
وزیرِ اعظم نے اپنے دورے کے دوران سعودی عرب کے ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آلِ سعود سے ملاقات کی۔
ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اقتصادی تعاون کے فریم ورک کا آغاز کیا گیا۔
یہ فریم ورک دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہے، جو باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
فریم ورک کے تحت دونوں ممالک کے درمیان توانائی، صنعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے، نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے اور تجارتی تبادلے کے فروغ کے لیے کام کیا جائے گا۔
گفتگو کے دوران دونوں ممالک کے درمیان جاری متعدد مشترکہ منصوبوں پر بھی تبادلۂ خیال ہوا، جن میں پاکستان سعودی عرب بجلی کی ترسیل کے منصوبے اور توانائی کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط شامل ہیں۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ریاض میں منعقدہ ’فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو‘ کی 9ویں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی اور
کیا انسانیت صحیح سمت کی طرف گامزن ہے؟ کے موضوع پر ہونے والی گول میز کانفرنس میں پاکستان کا نقطۂ نظر پیش کیا۔
وزیرِ اعظم نے اپنی گفتگو میں انسانی ترقی و فلاح و بہبود کے لیے عالمی اشتراکِ عمل کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ترقیاتی ویژن اور عالمی سطح پر ترقی و استحکام کے لیے سعودی عرب کے قائدانہ کردار کو سراہا۔
وزیرِ اعظم نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات اور سیلاب کی تباہ کاریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے گلوبل نارتھ سے گلوبل ساؤتھ کے ساتھ اشتراکِ عمل بڑھانے کی اپیل کی۔
اپنی گفتگو میں وزیرِ اعظم نے حکومت کے پاکستانی عوام، بالخصوص نوجوان افرادی قوت کی ترقی، مصنوعی ذہانت کے فروغ، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں اصلاحات کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔
دورے کے دوران وزیرِ اعظم کی ملاقات عالمی اقتصادی فورم کے صدر و چیف ایگزیکٹیو بورگا برینڈے سے بھی ہوئی، جس میں باہمی تعاون اور عالمی اقتصادی چیلنجز پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعودی عرب کے کے لیے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔