ایشیا کپ پاک بھارت ٹاکرا: دونوں اسکواڈز میں متوقع طور پر شامل کھلاڑی کونسے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
ایشیا کپ 2025 کے سب سے بڑے اور سنسنی خیز مقابلے میں آج بھارت اور پاکستان کی ٹیمیں دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں مدمقابل ہوں گی۔
روایتی حریفوں کے درمیان یہ مقابلہ ہمیشہ کی طرح شائقین کے لیے پرجوش ماحول لے کر آیا ہے اور اس بار دونوں ٹیمیں نئی کمبی نیشنز اور مضبوط باؤلنگ اٹیک کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔
یہ بھی پڑھیے: پاک بھارت ٹاکرا: توجہ صرف ایک میچ پر نہیں بلکہ پورا ٹورنمنٹ جیتنے پر ہے، صائم ایوب
ممکنہ پلیئنگ الیونبھارت کی ٹیم میں ابھیشیک شرما، شبھمن گل، سوریہ کمار یادو (کپتان)، سنجو سیمسن (وکٹ کیپر)، تلک ورما، ہاردک پانڈیا، شیوَم دوبے، اکشر پٹیل، جسپریت بمراہ، ورن چکرورتی، کلدیپ یادو کی شمولیت متوقع ہے۔
جبکہ پاکستان کے اسکواڈ میں صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، فخر زمان، محمد حارث (وکٹ کیپر)، سلمان آغا (کپتان)، حسن نواز، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، ابرار احمد، صوفیان مقیم ہوسکتے ہیں۔
بھارت کے فاسٹ باؤلر جسپریت بمراہ کو کھیلنے کی کلیئرنس مل گئی ہے جبکہ شریاس ایئر کو اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔ 5 ریزرو کھلاڑی بھی اسٹینڈ بائی پر موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایشیا کپ: پاک بھارت میچ کے 90 فیصد ٹکٹس فروخت، دبئی میں جنون عروج پر
پاکستان کی جانب سے مینجمنٹ نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سینیئر کھلاڑی بابر اعظم اور محمد رضوان کو ڈراپ کیا ہے۔ فخر زمان انجری سے صحتیاب ہو چکے ہیں لیکن اسپنر شاداب خان کندھے کی انجری کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئے ہیں۔
اب تک ایشیا کپ میں دونوں ٹیمیں 19 بار آمنے سامنے آچکی ہیں، جن میں بھارت نے 10 میچ جیتے جبکہ پاکستان نے 6 بار فتح حاصل کی۔ 3 مقابلے بے نتیجہ رہے۔ دونوں ٹیموں کی آخری ٹکراؤ ایشیا کپ 2022 میں دبئی میں ہوا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔