برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے بعد فرانس کا بھی فلسطین کو بطور آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
برطانیہ، کینیڈا ،آسٹریلیا اور پرتگال کے بعد فرانس نے بھی فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرلیا۔
فرانس کے صدر میکرون نے اقوام متحدہ کانفرنس میں فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین میں امن قائم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار اور منصفانہ امن قائم نہ کرنے کی اجتماعی ذمہ داری پوری عالمی برادری پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کا وعدہ دہائیوں سے ادھورا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو پیغام دیا کہ دنیا امن کے موقع سے محض چند لمحوں کے فاصلے پر ہے اور اگر اب بھی کچھ نہ کیا گیا تو یہ موقع ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جائے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ غزہ کی جنگ کو روکنے کا وقت آ گیا ہے اور اس کے لیے تمام فریقین کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ خطے کے عوام کو امن اور انصاف میسر آ سکے۔انہوں نے کہا کہ طاقت کے بجائے قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔
یہ پڑھیں: برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے بعد پرتگال نے بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلیا
صدر میکرون نے اپنے خطاب کے دوران دیگر ممالک کا بھی ذکر کیا جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا، ان ممالک میں اندورا، آسٹریلیا، بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا، مراکش، برطانیہ، کینیڈا اور سان مارینو شامل ہیں۔
صدر میکرون نے غزہ میں جاری جنگ کو ناقابلِ جواز قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حماس کے زیر حراست باقی 48 مغویوں کو فوری رہا کیا جائے۔
دوسری جانب حماس نے غزہ جنگ بندی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک اہم خط بھیجا ہے جس میں 60 روزہ جنگ بندی کے بدلے اسرائیل کے نصف یرغمالیوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی گئی ہے جس سے خطے میں پائیدارامن قائم کرنے کے امکانات مزید روشن ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل برطانیہ، کینیڈا، پرتگال اور آسٹریلیا نے بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے جنگ بندی سمیت دیگر شرائط پورے نہیں کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھی فلسطین کو
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔