WE News:
2026-07-24@01:38:40 GMT

ایمان مزاری و شریک حیات ہادی علی چٹھہ کو راہداری ضمانت مل گئی

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

ایمان مزاری و شریک حیات ہادی علی چٹھہ کو راہداری ضمانت مل گئی

پشاور ہائیکورٹ نے انسانی حقوق کی کارکن ایڈووکیٹ ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو راہداری ضمانت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری کے خلاف سائبر کرائم کیس میں خصوصی پراسیکیوٹرز مقرر

یہ فیصلہ اس واقعے کے 3 دن بعد آیا جب اس جوڑے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سے جھگڑے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

پولیس نے ایمان مزاری، ان کے شوہر، زینب جنجوعہ اور تحریک انصاف سے وابستہ متعدد وکلا جن میں نعیم پنجوتھہ اور فتح اللہ برکی شامل ہیں کے خلاف دہشتگردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ بار قیادت پر ان وکلا نے حملہ کیا اور انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

ایمان مزاری اور دیگر نامزد وکلا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی کام سے روکنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

منگل کو سماعت کی پشاور ہائیکورٹ کے جج جسٹس سید محمد عتیق شاہ نے کی جنہوں نے جوڑے کو تحفظی (راہداری) ضمانت دی اور ہدایت کی کہ وہ 9 اکتوبر تک متعلقہ عدالت کے سامنے پیش ہوں۔

مزید پڑھیں: جسٹس سرفراز ڈوگر کیخلاف شکایت، ایمان مزاری نے اضافی دستاویزات جمع کرادیں

راہداری ضمانت درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔ سماعت کے دوران ایمان مزاری کے وکلا عطاء اللہ کنڈی، جہانزیب محسود، طارق افغان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے دونوں درخواست گزاروں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 9 اکتوبر تک راہداری ضمانت دیتے ہوئے انہیں متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت بھی جاری کی۔

درخواست گزار ایمان مزاری اسلام آباد میں وکیل اور سماجی کارکن ہیں جبکہ ان کے وکیل عطاء اللہ کنڈی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ان کے خلاف اسلام آباد میں مقدمہ درج ہے۔

چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے استفسار کیا کہ یہ پہلی بار پشاور ہائیکورٹ آ رہی ہیں جس پر ایمان مزاری نے تصدیق کی کہ یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’چلو آپ ایف آئی آر کے بہانے پشاور تو آ ہی گئیں، آپ لوگ تو ویسے بھی خیبرپختونخواٰ نہیں آتے۔

مزید پڑھیں: ایڈووکیٹ ایمان مزاری اڈیالہ جیل سے رہا

عطاء اللہ کنڈی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ایمان مزاری خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مظلوم لوگوں کی آواز ہیں۔ واضح رہے کہ ایمان مزاری پاکستان تحریک انصاف کی مقید رہنما شیریں مزاری کی صاحبزادی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایمان مزاری ایمان مزاری کو ضمانت مل گئی ایمان مزاری کی ضمانت ہادی علی چٹھہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایمان مزاری ایمان مزاری کو ضمانت مل گئی ایمان مزاری کی ضمانت ہادی علی چٹھہ پشاور ہائیکورٹ راہداری ضمانت ایمان مزاری اسلام آباد کے خلاف

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم