ایف بی آر ود ہولڈنگ ٹیکس کو زیادتی قرار دینے کا فیصلہ چیلنج کرے گا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
اسلامی نظریاتی کونسل نے بینک سے رقم نکالنے یا منتقلی کرنے پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی وصولی کو غلط قرار دیا ہے جس پر ایف بی آر نے کونسل کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں بینک سے اپنی ہی رقم نکالنے پر ود ہولڈنگ ٹیکس کو غیرشرعی اور زیادتی قرار دیا گیا۔
اس حوالے سے ایف بی آر ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال سے جب سوال کیا گیا تو انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا اور کہا کہ ایف بی آر اس فیصلے کو دیکھے گا اور جائزہ لے کر کوئی بات کی جاسکے گی۔
دوسری جانب ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف بی آر
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔