شبیر تنولی کو سزائے موت دی جائے‘متاثرہ بچوں کامطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) قیوم آباد میں شربت فروش کی جانب سے بچوں سے زیادتی کرنے کے مقدمے میں چار متاثرہ بچیوں نے اپنے بیان میں ملزم شبیر تنولی کے سزائے موت دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔ متاثرہ بچیوں نے اپنے بیانات کے دوران ملزم شبیر تنولی کو شناخت بھی کرلیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں متاثرہ بچیوں کا بیان قلم بند کیا گیا۔ بچیوں کا بیان میں کہنا ہے کہ وہ اس ملزم کو جانتی ہیں۔ یہ ملزم پیسوں کا لالچ دیکر اپنے کمرے میں لے کر جاتا تھا‘ کمرے میں لے جاکر کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسکی وڈیوز بھی بنائی گئیں۔ڈر کی وجہ سے کسی کو بھی اس بارے میں نہیں بتایا۔ ملزم شبیر تنولی کو گولی ماردی جائے یا پھر سزائے موت سنائی جائے۔ عدالت نے چاروں متاثرہ بچیوں کے زیر دفعہ 164 کے تحت بیانات ریکارڈ پر رکھ لیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: متاثرہ بچیوں شبیر تنولی
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ