اسلامی نظریاتی کونسل نے معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا ملزم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرزا محمد علی کے بیانات کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے. نقلِ کفر پر مبنی بیانات کی بنا پر انجینئر مرزا سخت تعزیری سزا کے مستحق ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس چیئرمین علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کی زیر صدارت ہوا.

جس میں اراکین کونسل جسٹس (ر) ظفر اقبال چوہدری، ڈاکٹر عبد الغفور راشد، صاحبزادہ پیر خالد سلطان قادری، محمد جلال الدین ایڈووکیٹ، حافظ طاہر محمود اشرفی نے شرکت کی۔اجلاس میں ملک اللہ بخش کلیار، جسٹس (ر) الطاف ابراہیم، مولانا پیر شمس الرحمٰن، محمد یوسف اعوان، سید افتخار حسین نقوی، ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد، رانا محمد شفیق خان پسروری، صاحبزادہ سید سعید الحسن، صاحبزادہ حافظ محمد امجد، فریده رحیم اور بیرسٹر سید عتیق الرحمٰن شاہ بخاری نے بھی شرکت کی۔اسلامی کونسل نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ کے مراسلہ بابت مرزا محمد علی انجینئر پر عائد ایف آئی آر توہین رسالت کا جائزہ لیا اور اس سے متعلق فیصلہ دیا۔

خیال رہے کہ 26 اگست کو جہلم پولیس نے متنازع ویڈیو بیان کے بعد معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو امن عامہ (تھری ایم پی او) آرڈیننس کے تحت حراست میں لے کر جیل منتقل کردیا تھا، جبکہ ان اکیڈمی کو تالے ڈال کر سیل کردیا گیا تھا۔پنجاب کے شہر جہلم کے مشین محلے کے رہائشی انجینئر محمد علی مرزا اپنے لیکچر اور خطابات سوشل میڈیا پر باقاعدگی سے اپ لوڈ کرتے ہیں اور یوٹیوب پر ان کے فالوورز کی تعداد 31 لاکھ سے زیادہ ہے۔ایم پی او آرڈیننس کی دفعہ 3 حکام کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو گرفتار اور حراست میں لے سکیں جس سے ’امنِ عامہ کے خلاف کسی سرگرمی‘ یا عوامی نظم کو نقصان پہنچانے کا خدشہ ہو۔اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن و سنت میں بھی بعض کفریہ الفاظ نقل ہوئے ہیں، مگر یہ بات ادھوری پیش کی جاتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ جب ان تمام مقامات کو دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ان الفاظ کو کسی تائید کے طور پر نہیں بلکہ بطور ردّ، انکار اور سخت تنبیہ کے ذکر کیا گیا ہے۔مزید کہا کہ شرعی اصول یہ ہے کہ کفر کے الفاظ صرف اس وقت نقل کیے جاسکتے ہیں جب ان کا مقصد کوئی جائز دینی ضرورت ہو، مثلاً شہادت، باطل کی تردید، تعلیم یا تنبیہ وغیرہ، بلا ضرورت ایسے کلمات دہرانا ناجائز اور بعض صورتوں میں سخت گناہ ہے، خصوصاً جب معاملہ حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو تو کسی شرعی مقصد کے بغیر توہین آمیز جملے نقل کرنے کی قطعاً اجازت نہیں۔کونسل نے فیصلے میں کہا کہ مرزا محمد علی انجینئر کے کئی بیانات میں ایسے جملے موجود ہیں جو محض نقلِ کفر پر مشتمل ہیں مگر کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے ہیں، اس بنا پر ان کا یہ طرزِ عمل سخت تعزیری سزا کا مستحق ہے اور چونکہ یہ عمل انہوں نے بارہا دہرایا ہے، اس لیے ان کا جرم مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل نے فیصلے میں کہا کہ ایک ویڈیو میں ان کا بیان قرآن پاک کی توہین، معنوی تحریف کے زمرے میں بھی آتا ہے اور توہین رسالت کو بھی مستلزم ہےی لہٰذا اس پر عائد دفعات میں توہینِ قرآن کی دفعہ بھی شامل کی جائے۔کونسل نے فیصلہ دیا کہ انجینئر مرزا کا بیان فساد فی الارض کو پھیلانے کا باعث ہےک اس لیے پاکستان کی مسیحی برادری کو ایک مراسلہ بھیجا جائے گا کہ وہ تحریری طور پر واضح کریں کہ مرزا محمد علی انجینئر نے شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو الفاظ کہے ہیں، کیا ان کی مقدس كتابوں میں اور اجتماعی طور پر ان کی یہ رائے ہے کہ نہیں، ان کے جواب کے بعد ہی تفصیلی فیصلہ مرتب کیا جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انجینئر محمد علی مرزا اسلامی نظریاتی کونسل مرزا محمد علی کونسل نے

پڑھیں:

زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سال 2026 کے لیے موسم گرما کی تعطیلات سے متعلق بڑا انتظامی فیصلہ کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عدالتی کارکردگی میں بہتری اور زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے تعطیلات کا نیا شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اہم فیصلہ چیف جسٹس پاکستان کی درخواست اور ججز کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا۔

نئے انتظامات کے تحت سپریم کورٹ کے ججز نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسلام آباد میں واقع پرنسپل سیٹ پر کام کے دورانیے میں اضافے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ماضی کی روایت کے برعکس اس بار سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریوں میں ججز کے بیٹھنے کے وقت میں کمی کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

تاہم ججز کی جانب سے اصل میں حاصل کی جانے والی تعطیلات کا دورانیہ گزشتہ برسوں کی طرح 4 ہفتے ہی برقرار رہے گا۔

سپریم کورٹ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے انتظامات کا بنیادی مقصد تعطیلات کے دوران بھی ججز کی دستیابی کو یقینی بنانا اور مقدمات کی سماعت کے عمل کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے تاکہ زیر التوا کیسز کے بروقت فیصلوں میں مدد مل سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews انتظامی فیصلہ تعطیلات سپریم کورٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ