Express News:
2026-07-24@05:36:12 GMT

شہباز شریف کی مسکراہٹیں، پشاوری جلسہ اور عظیم لوگ

اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT

پسِ دیوارِزنداں بیٹھے بانی پی ٹی آئی کے حکم سے 27ستمبر2025 کو پشاور میں منعقد ہونے والا پارٹی جلسہ اِس حال میں ہُوا ہے جب (1)وزیر اعظم شہباز شریف صاحب نیویارک اور واشنگٹن میں مطلوبہ کامیابیاں سمیٹنے کے بعد لندن پہنچ چکے تھے (2) جب 27ستمبر کو خیبر پختونخوا کے مشہور علاقے (کرک) میں پاکستان دشمن فتنہ الہندوستان اور پاکستانی سیکیورٹی فو رسز کے درمیان زبردست معرکہ ہُوا اور پاکستانی فورسز نے نہائت کامیابی سے 17خوارج کو جہنم رسید کر دیا۔

اِس کامیاب انٹیلی بیسڈ آپریشن(IoB) نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر پاکستان کے کسی بھی شہر میں کوئی سیاسی جلسہ یا کوئی بڑی تقریب ہو رہی ہو تو اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہماری سیکیورٹی فورسز دشمن کے عزائم سے غافل ہوں (3) جب اُسی روز لاہور میں وطنِ عزیز کے نامور گلوکار، علی ظفر،ایک شاندار کنسرٹ کررہے تھے۔

میوزک کے شوقین پاکستانیوں نے اِس میں بھرپور شرکت کی اور دل کھول کر کنسرٹ کے ٹکٹ خریدے کہ اِس عوامی میوزک شو کی ساری آمدنی (بقول سنگر علی ظفر) پاکستان کے سیلاب زدگان کی فلاح و امداد کے لیے صَرف ہونے والی ہے ۔اِس کنسرٹ کو ہمارے الیکٹرانک میڈیا میں بھی خاصی کوریج دی گئی ۔ سوال اُٹھانے والے مگر استفسار کرتے پائے گئے ہیں کہ: آیا پنجاب کے دارالحکومت میں اس کنسرٹ کی اس لیے 27ستمبر کو اجازت دی گئی تاکہ لوگ پی ٹی آئی کے پشاوری جلسے میں ، کم سے کم، پہنچ سکیں؟

ہمارا نہیں خیال کہ پی ٹی آئی کے مذکورہ جلسے کے رونق میلے پر علی ظفر کے مذکورہ کنسرٹ نے کوئی منفی اثر ڈالا ۔ پی ٹی آئی کے جن عشاق نے پنجاب سے پشاور پہنچنا تھا، وہ اپنی ہمتوں کے مطابق پہنچ ہی گئے ۔ پی ٹی آئی کی معروف شخصیت ، شیر افضل خان مروت، نے جلسے سے ایک روز قبل یوں پیشگوئی کی تھی: ’’میرا خیال ہے کہ 27ستمبر کا پشاوری جلسہ مطلوبہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکے گا۔

وجہ یہ ہے کہ جلسے کے منتظمین میں کوئی کوآرڈینیشن نظر نہیں آ رہی۔‘‘ سوال پوچھنے پر موصوف نے بتایا:’’ مجھے کسی نے دعوت دی ہے نہ مَیں بِن بلائے اس جلسے میں شریک ہوں گا۔ اگر جاؤں گا تو جلسے کے اندر ایک اور جلسہ لگ جائے گا۔‘‘اِن الفاظ سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی باطنی تقسیم کس حد تک پہنچ چکی ہے! جلسے سے چند روز قبل اسلام آباد سے ، مبینہ طور پر ، پی ٹی آئی کی ایک معروف ایکٹوسٹ گرفتار کی گئیں۔

اِس پر ہنوز شور مچا ہُوا ہے ۔ شنید ہے کہ گرفتار ہونے والی اِس خاتون پر نون لیگ کی ایک خاتون سیاسی رہنما نے کیس کررکھا ہے۔ گرفتار شدہ خاتون ایکٹوسٹ کی دوسری ایکٹوسٹ ہمشیرہ پہلے ہی ،9مئی کے سانحات کے الزام میں، کئی مہینے حوالہ زندان رہ چکی ہیں ۔

پشاور میں پی ٹی آئی کا جلسہ تو ہو گیا ، مگر کیا اِسے بھرپور اور کامیاب گردانا جا سکتا ہے؟ کیا اِس کے انعقاد سے مرکزی حکومت پر کوئی دباؤ آیا ؟ دونوں کا جواب نفی میں ہے۔جہاں جلسہ ہُوا ، وہ بھی پی ٹی آئی حکومت کے زیر قبضہ۔ جلسے میں ڈھونے والے بھی پی ٹی آئی حکومت کا حصہ ۔ جلسہ کے منتظمین بھی پی ٹی آئی کے حکام ۔ جلسے پر بھاری خرچ اخراجات کرنے والی بھی پی ٹی آئی کی گنڈا پور حکومت ( ایک معاصر کا دعویٰ ہے کہ جلسہ سے قبل ہی علی امین گنڈا پور کی حکومت نے ، جلسہ انتظامات کے نام پر، ساڑھے  9کروڑ روپے خرچ کر ڈالے تھے۔

سوال پوچھنے پر گنڈاپور کے ترجمان ، فراز مغل، نے ترنت کہا: جلسہ ہے تو پیسے بھی خرچ ہوں گے) بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ محترمہ، علیمہ خان ، بھی بطورِ خاص جلسہ میں پہنچیں تاکہ جلسے کی شان بڑھا سکیں اور بھائی کا سیاسی وجود ثابت کر سکیں ۔ سچ یہ ہے کہ اگرچہ مین اسٹریم میڈیا میں اِس جلسے کی تیاریوں اور شرکت کنندگان بارے تقریباً ’’بلیک آؤٹ‘‘ ہی رہا ۔ مگر اِس کے باوجودکئی حلقوں کی نظریں اِسی پر ہی مرکوز تھیں ۔ 27ستمبر کی شام تک بھی ہمارے نجی ٹی ویوں پر اِس کا تذکرہ نہ ہونے کے مترادف تھا ۔ پشاور کا جلسہ منعقد ہُوا ضرور ہے ، مگر کسی شان کے بغیر ۔

اتوار ، 28ستمبر،کی صبح جب یہ کالم لکھا جارہا ہے ، راقم نے اخبارات میں پی ٹی آئی قیادت کے یہ دعوے ملاحظہ کیے کہ ’’ پشاوری جلسے میں پانچ لاکھ افراد شریک ہُوئے۔‘‘ مخالف حلقوں نے اِسے مبالغہ قرار دیا ہے ۔ ساتھ ہی پنجاب کی وزیر اطلاعات نے اِس پر ایک دلچسپ طنزیہ ٹویٹ بھی کیا ہے، جو غیر حقیقی بھی نہیں ہے۔

پی ٹی آئی مگر خوش اور خورسند ہے کہ اُن کا جلسہ ہو گیا ہے اور اُن کے لیڈروں کے مزاحمتی بیانات حکومت اور فیصلہ سازوں تک پہنچ گئے ہیں ۔افسوسناک بات مگر یہ ہے کہ(1) جلسے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف نعرے بازی بھی سنائی دی گئی (2) پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل،سلمان اکرم راجہ، نے جلسے کے سامنے جو 4قراردادیں پیش کیں، وہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی مروجہ پالیسیوں سے متصادم خیال کی گئیں۔ پی ٹی آئی کی اِسی’’رونق بازی‘‘ میں ہمارے وزیر اعظم ، جناب شہباز شریف، امریکا سے برطانیہ پہنچ گئے ہیں ۔

اتوار کی صبح جب یہ الفاظ رقم کیے جا رہے ہیں ، ہمارا میڈیا یہی بتا رہا ہے کہ شہباز شریف بروز ہفتہ نیویارک سے لندن پہنچ گئے تھے اور وہ لندن میں تین روزہ قیام کے بعد پاکستان روانہ ہوں گے ۔ گویا شہباز شریف پورے دو ہفتے بعد واپس وطن پہنچیں گے ۔ کیا پاکستان ایسے غریب ترین اور بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبے ملک کے وزیر اعظم کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ اپنے بھاری بھر کم وفد کے ساتھ دو، دو ہفتے ، بھاری ترین اخراجات پر،ملک سے باہر قیام پذیر رہیں؟

جناب شہباز شریف 17ستمبر کو پاکستان سے براستہ سعودی عرب ، جنیوااور لندن، نیویارک پہنچے تھے ۔ جنیوا جانا شاید اُن کے لیے اِس لیے بھی اشد ضروری تھا کہ وہاں اُن کے پارٹی صدر اور بڑے بھائی صاحب قیام پذیر تھے۔اب جناب شہباز شریف واپس وطن پدھارے ہیں ، تب بھی جنیوا سے ہوکر آرہے ہیں ۔

شاید اس لیے کہ جنیوا میں مقیم (بغرضِ علاج)پارٹی صدر کی خیر خیریت معلوم کرنا اور انھیں اپنے کامیاب دَورہ بارے رپورٹ دینا بھی از بس ضروری تھا ۔ نیویارک میں UNGAاجلاس سے خطاب کرنے سے پہلے جناب شہباز شریف نے سعودی عرب میں پاک، سعودی جو بے مثال دفاعی معاہدہ کیا، اِس نے انھیں ایک نئے اور بڑے عالمی لیڈر کے طور پر دُنیا کے سامنے پیش کیا ہے ۔

نیویارک میں جناب شہباز شریف نے نصف درجن اسلامی ممالک کی سربراہی کرتے ہُوئے جس انداز و ادا سے صدر ٹرمپ سے مکالمہ اور ملاقات کی ہے ، اِس نے بھی انھیں منفرد اعزاز بخشا ہے۔ پھر یو این جی اے سے تاریخ ساز خطاب کے بعد شہباز شریف نے واشنگٹن میں ایک بار پھر امریکی صدر سے ، شاندار ماحول میں ، مکالمہ و ملاقات کی ، اِس نے بھی انھیں عالمی میڈیا کی آنکھ کا تارا بنائے رکھا ۔

ایسے کامیاب عالمی ماحول میں وزیر اعظم شہباز شریف کے لبوں پر مسکراہٹیں کیوں نہ بکھری رہتیں؟ خاص طور پر جب ڈونلڈ ٹرمپ وہائیٹ ہاؤس میں امریکی میڈیا کے سامنے کھلے دل سے یہ اعتراف کرتے ہُوئے سنائی دیے:’’اِس پریس کانفرنس کے بعد مجھے دو عظیم لیڈر ملنے آ رہے ہیں۔‘‘ اور امریکی میڈیا کے استفسار پر ٹرمپ صاحب نے انھیں بتایا کہ یہ عظیم لیڈر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ہیں ۔ لاریب امریکی صدر نے عظمت کے اپنے معیارات قائم کیے ہیں ۔ اِس معیار پر واشنگٹن کی مہرِ تصدیق ثبت ہو چکی ہے۔

کوئی مانے یا نہ مانے ،امریکا میں ملنے والی یہ عزت ایک یا دوافراد کی عزت نہیں ہے بلکہ پورے ملک کی تکریم سمجھی جانی چاہیے ۔اب پی ٹی آئی والے پشاوری جلسے میں ،مارے حسد کے، جتنے مرضی طنز کر لیں، ہمارے دونوں عظیم لیڈروں کی عظمت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔آخر میں یہ گزارشی سوال کرنا تھا کہ وزیر اعظم کے ساتھ نیویارک گئے جناب خواجہ آصف کو کس دانشمند نے مشورہ دیا تھا کہ وہ عالمی شہرت یافتہ’’ بے لحاظ‘‘ صحافی (مہدی حسن) کو انٹرویو دینے بیٹھ جائیں؟ وزیر اعظم کے وفد میں شامل نیویارک گئیں ایک خاتون کا متنازع معاملہ بھی حکومت سے اطمینان بخش انداز میں سنبھالا نہیں جا سکا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جناب شہباز شریف بھی پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی کے پی ٹی ا ئی کی جلسے کے کے بعد

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری