data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(بزنس رپورٹر)یونائٹیڈ بزنس گروپ (یو بی جی)کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے اگست 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس میں نمایاں کمی کے بعد شرح سود کو کم کر کے 6 فیصدتک کرنے کا ایک بار پھرمطالبہ کردیاہے۔انکا کہنا ہے کہ اگست میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر صرف 3 فیصد پر آ گئی ہے، جو ایک قابلِ ذکر کامیابی ہے۔ایس ایم تنویر نے کہا کہ اس پیش رفت نے شرح سود میں کمی کے لیے ملک بھر میں آوازیں بلند ہورہی ہیں اور کاروباری رہنماؤں اور ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ موجودہ شرح سود اب مزید قابلِ جواز نہیں رہی۔انہوں نے زور دیا کہ جب مہنگائی قابو میں آ چکی ہے، تو اس صورتِ حال میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنا تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ ایس ایم تنویر کے مطابق، حقیقت پر مبنی شرح سود کا فرق خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، جو صنعتی اور معاشی ترقی کو روک رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 11 فیصد شرح سود کو برقرار رکھنا اب کسی بھی طور پر معاشی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ ایس ایم تنویر نے کہا کہ شرح سود کو کم از کم 6 فیصد تک لانے سے معیشت پر کئی مثبت اثرات مرتب ہوں گے جس میںصنعتی ترقی کا احیاء، روزگار کے مواقع میں اضافہ، برآمدات کی مسابقت میں بہتری، حکومت کے قرضے کا بوجھ کم ہونا اور سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد میں اضافہ شامل ہیں۔ ایس ایم تنویر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے فوری طور پر شرح سود کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ شرح سود کو فوری طور پر کم کر کے کم از کم 6 فیصد کرے، یہ اقدام نہ صرف صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع کو فروغ دے گا بلکہ برآمدات میں مسابقت، 3.

5 ٹریلین روپے سے زائد کے سرکاری قرضوں کے بوجھ میں کمی، اور سرمایہ کاری و کاروباری اعتماد میں بہتری کا باعث بنے گا۔سرپرست اعلیٰ یو بی جی نے پاکستان بھر کے چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیموں، اور کاروباری رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ایک ترقی دوست اور حقیقت پسندانہ اقتصادی پالیسی کا مطالبہ کریں۔ انکا کہنا تھا کہ آئیے ہم سب مل کر ایک مضبوط اور اجتماعی آواز بلند کریں تاکہ ایک ترقی پر مبنی اور معقول اقتصادی پالیسی کا مطالبہ کیا جا سکے ، ایسی پالیسی جو عوام کی مدد کرے، ہمارے کاروبار کو مستحکم کرے، اور پاکستان کو خوشحال مستقبل کی طرف لے جائے۔انہوں نے کہا کہ جب ملک اس معاشی سنگ میل کا جشن منا رہا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور اسٹیٹ بینک شرح سود میں کمی کے مطالبے پر توجہ دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری اور قوم کی نظریں پالیسی سازوں پر جمی ہوئی ہیں، اور ان سے ایسے فیصلوں کی توقع ہے جو معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایس ایم تنویر نے شرح سود کو نے کہا کہ کا کہنا

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان