data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی لاہور کے زیر اہتمام بھیکے وال موڑ، وحدت روڈ لاہور پر غزہ مارچ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کر کے فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔ خواتین مارچ کی قیادت ڈاکٹر حمیرا طارق سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین، جماعت اسلامی پاکستان، دیگر مرکزی قائدین اور مقامی رہنماؤں نے کی۔ شرکا نے ہاتھوں میں فلسطینی جھنڈے، فلیکس اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیلی مظالم کے خلاف شدید مذمتی نعرے درج تھے۔غزہ مارچ کی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے نائب وزیراعظم اسحق ڈار کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے 2ریاستی حل کو پاکستان کی ریاستی پالیسی قرار دیے جانے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور اس کے عوام صرف اور صرف ریاست فلسطین کے قیام کے حامی ہیں۔اسی طرح فلسطین پر قابض اسرائیل کو تسلیم کرنے بارے پاکستانی قوم ہرگز اجازت نہ دے گی،ٹرمپ کا نام نہاد غزہ امن معاہدہ دہشت گرد اسرائیل کی سرپرستی اور حماس کے خاتمے کا منصوبہ ہے، صہیونی قابض ریاست امریکی سرپرستی میں غزہ میں بچوں کا قتل عام کررہی ہے، اس نے صمود فلوٹیلا پر حملہ کیا اور امدادی کارکنوں کو یرغمال بنایا، گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے۔ حکمران جان لیں وہ امریکا کے غلام ہوسکتے ہیں، غیور پاکستانی نہیں۔ پوری قوم حماس اور اہل فلسطین کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ’’معاہدہ ابراہام‘‘ جیسے منصوبے فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ڈپٹی سیکرٹری حلقہ خواتین اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حماس نے اپنے مؤقف میں غیر ضروری تنازعات یا اشتعال انگیزی سے اجتناب کرتے ہوئے انتہائی دانشمندی کا ثبوت دیا ،قیدیوں کا باہم تبادلہ اور اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا اور فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل سیٹ اپ ایک حقیقی اور منصفانہ حل کی طرف اشارہ کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ ’’معاہدہ ابراہام‘‘ جیسے منصوبے کا مقصد فلسطینی عوام کوزندہ دفن کرناہے، جسے پاکستانی عوام کبھی قبول نہیں کریں گے ، ارض فلسطین کا 2 ریاستی حل والے مؤقف کوواپس نہ لیاگیا تو پورا ملک جام کر دیں گے۔ انہوں نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ۔صدر حلقہ لاہور عظمیٰ عمران اور شریک قائدین نے حافظ نعیم الرحمن کے اس بیان کی توثیق کی جس میں انہوں نے وزیراعظم پاکستان سے سینیٹر مشتاق احمد خان کی فوری رہائی اور بازیابی کے لیے اقدامات تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ مارچ کی شرکا سے ثمینہ سعید، ڈاکٹر زبیدہ جبیں ،نازیہ توحید ،عظمیٰ عمران و دیگر خواتین رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔

سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق ، ثمینہ سعید و دیگر لاہور میں غزہ ملین مارچ میں شریک ہیں

 

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی حلقہ خواتین کرتے ہوئے فلسطین کے انہوں نے

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے