Islam Times:
2026-07-24@01:40:54 GMT

معافی کس بات پر؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

معافی کس بات پر؟

اسلام ٹائمز: نیتن یاہو نے اپنی اس گفتگو میں الٹا قطری وزیراعظم کے سامنے اپنی شکایات کا ایسا دفتر کھول دیا جس میں قطر کی اخوان المسلمین کی حمایت اور الجزیرہ چینل کے حوالے سے شکایات بھی شامل تھیں۔ نیتن یاہو نے اپنی یہ گفتگو بغیر معذرت کیے ختم کی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی جارحیت پر معافی تو نہیں مانگی لیکن عرب حکمرانوں کو ان کی اوقات ایک مرتبہ پھر یاد ضرور کرا دی ہے۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

بین الاقوامی سطح پر جھوٹے وعدوں، جھوٹے بیانوں اور جھوٹی قراردادوں کی ایک تاریخ ہے جس نے دنیا کے امن و اماں کو تہ و بالا کر رکھا ہے۔ ایسے میں کسی سرکاری ذریعہ ابلاغ کا کسی بڑی سرکاری شخصیت کے کسی ایسے بیان کی تشہیر کرکے جو عالمی سطح پر منظر عام پر آ چکا ہو، ذرائع ابلاغ کی زینت بن چکا ہو اور تبصروں کا موضوع ٹھہر چکا ہو، اس سے مکر جانا، صحافتی بدیانتی کی ایک بڑی مثال ہے۔ کچھ عرصے قبل اسرائیل نے قطر پر فضائی حملہ کیا تھا۔ حسب روایت عالمی سطح پر اس پر کافی تنقید کی گئی۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں کچھ روز پہلے یہ خبر پھیلائی گئی کہ نیتن یاہو نے قطر کے وزیراعظم سے گفتگو ککے اس سے اس جارحیت پر معافی مانگی ہے۔ اگرچہ اس طرح کی معافیوں سے جارحیت کا نشانہ بننے والے کمزور ممالک اور بالخصوص ایسے ممالک کی صحت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا جن پر اکثر آمریتیں مسلط ہوتی ہیں اور جن کے حکمران غیر ملکی طاقتوں کے غلام ہوتے ہیں۔ ان کے لیے اس طرح کی حزیمت آنی جانی شے ہوتی ہے۔

اگر کوئی جارح ملک کسی کمزور ملک کا سوا ستیاناس کرکے اس سے اپنے کیے کی محض لفظی معافی مانگتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ بین السطور اس مغلوب ملک سے یہ کہنا چاہتا ہے کہ ”بات کو یہیں ختم کیا جائے اور اگر بات کو بڑھایا گیا تو پھر اس کا حشر نشر کر دیا جائے گا“۔ اس طرح کی معافیاں کسی کمزور ملک کی طرف سے کسی جوابی کاروائی سے اجتناب کا ایک ”غیر معقول بہانہ“ فراہم کرتی ہیں۔ ایسے بیانات کو میر کے اس شعر سے ماپا جا سکتا ہے جس میں وہ اپنے بے وفا محبوب سے گلہ کرتے یوں کہتے ہیں:
بعد مرنے کے مری قبر پہ آیا وہ میر
یاد آئی مرے عیسیٰ کو دوا میرے بعد
اس نوع کی عذر خواہی کسی ملک یا قوم کی غیرت و اہمیت  کا جنازہ نکالنے کے بعد اس کی قبر پر کاغذ کے پھولوں کی چادر چڑھانے کے مترادف ہوتی ہے۔ لیکن اگر بے وفا محبوب یہ کہے کہ ہم تو چادر چڑھانے کے لیے قبر پر گئے ہی نہیں تو پھر یہ کسی کی موت پر اس کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا دفتر اب ذرائع ابلاغ تک رسائی حاصل کرنے والی اس خبر کا انکار کر رہا ہے جس میں نیتن یاہو کی قطری وزیراعظم سے معافی کا تذکرہ ملتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے موصولہ تازہ ترین بیان سے اسرائیلی وزیراعظم اور قطری وزیراعظم کی باہمی گفتگو کے کئی نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔

نیتن یاہو کے دفتر سے حاصل ہونے والی گفتگو کے متن کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے اسرائیل کے حملے کے حوالے سے قطر کے وزیراعظم سے کسی قسم کی معافی نہیں مانگی۔ البتہ قطری وزیراعظم سے کی گئی گفتگو میں نیتن یاہو نے اس حملے میں قطر کے ایک شہری کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار ضرور کیا ہے۔ نیتن یاہو نے اپنی اس گفتگو میں الٹا قطری وزیراعظم کے سامنے اپنی شکایات کا ایسا دفتر کھول دیا جس میں قطر کی اخوان المسلمین کی حمایت اور الجزیرہ چینل کے حوالے سے شکایات بھی شامل تھیں۔ نیتن یاہو نے اپنی یہ گفتگو بغیر معذرت کیے ختم کی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی جارحیت پر معافی تو نہیں مانگی لیکن عرب حکمرانوں کو ان کی اوقات ایک مرتبہ پھر یاد ضرور کرا دی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نیتن یاہو نے اپنی

پڑھیں:

رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق  حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل