پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے، اتوار کو چھٹی کے روز بھی دونوں جماعتوں نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر ایک دوسرے کو نشانہ بنایا ہے ۔پاکستان پیپلزپارٹی نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے کامطالبہ کر دیا۔ پنجاب حکومت نے پچھلے کچھ دنوں میں پیپلزپارٹی کیخلاف یکطرفہ مہم چلائی،پنجاب حکومت کی تنقید سمجھ سے باہر ہے،ہمیں ٹارگٹ بنا کر وفاقی حکومت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،اگرکسی کی لڑائی وزیراعظم سے ہے تو پیپلزپارٹی کو نہ گھسیٹا جائے،برائے مہربانی پیپلز پارٹی کو اس لڑائی میں شامل نہ کریں۔ کراچی میں سندھ کے سینئرصوبائی وزیرشرجیل میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہمیں ڈیڈ لائینز دی جا رہی تھیں کہ بلدیاتی انتخابات کروائیں،تمام صوبوں میں بلدیاتی انتخابات ہوچکے،پنجاب میں کیوں نہیں ہورہے۔شرجیل میمن نے کہا ملکی حالات کو دیکھیں،یہ نئی نئی باتیں نہ کریں،میرا پانی میری مرضی،میرا پیسہ مرضی یہ کونسی باتیں ہیں۔میں کہہ دوں کہ میری پورٹ میری مرضی،میرا کوئلہ میری مرضی، یہ سب کہوں گا تو مجھے میری قیادت پارٹی سے نکال دیگی،نفرت کی آگ کو نہ پھیلائیں اپنے اسپیچ رائٹرز کوشٹ اپ کال دیں،میرا تیرا نہیں، پورا پاکستان،وسائل، صوبے ہم سب کا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔