وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دورہ ملائیشیاء مکمل، کوالا لمپور سے پاکستان روانگی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملائیشیاء کے سرکاری دورے کو کامیابی سے مکمل کر کے وطن واپسی کا آغاز کر دیا ہے۔ کوالا لمپور کے بنگا رایا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ملائیشیاء کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم نے خود وزیراعظم کو رخصت کیا۔ دورے کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات میں غیر معمولی گرمجوشی دیکھی گئی۔ وزیراعظم کی آمد پر داتو سری انور ابراہیم نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور اپنی رہائش گاہ پر بھی خوش آمدید کہا۔ ملائیشیاء کے وزیراعظم نے وزیراعظم شہباز شریف کو ان کے دورے کی یاد میں تصاویر پر مبنی یادگاری البم بھی پیش کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے انتظامی مرکز پتراجایا کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں مسلح افواج کے دستے کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ وزیراعظم پاکستان اور ملائیشیاء کے وزیراعظم نے بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس میں شرکت کی، جس کا مقصد دو طرفہ اقتصادی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ اس کے علاوہ، وزیراعظم شہباز شریف کو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی آف ملائیشیاء کی جانب سے لیڈر شپ اور گورننس میں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مستحکم کرنے اور ان میں مزید تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ملائیشیاء کے شہباز شریف
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔