پنجاب کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں، چچا بھتیجی کی لڑائی میں پی پی کو نہ گھسیٹیں: پلوشہ خان
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک : پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا ہےکہ جھگڑا پنجاب اور وفاق کا ہے، لڑائی بھتیجی اور چچا کی ہے ، اس کا پیپلزپارٹی سے کوئی لینا دینا نہیں ، پنجاب حکومت کو شہباز شریف وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھے پسند نہیں ، یہ گھر کی لڑائی ہے، پیپلز پارٹی کو نہ گھسیٹیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور شہباز شریف اور دیگر کے عہدے صدر زرداری کی وجہ سے ہی ہیں، شہباز شریف کو صدر زرداری نے ہی وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کیا، آپ پاکستان پیپلز پارٹی کے ووٹ سے ہی حکومت میں آئے ہیں۔پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ ہم ان کے اتحادی ہیں غلام نہیں ہیں، اپنے گھر کی لڑائی ہمارے گلے نہ ڈالیں، پیپلز پارٹی کے پاس تمام صوبوں میں مینڈیٹ ہے، پنجاب کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں ہے، پنجاب حکومت پر اگر تنقید ہوتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ تنقید پنجاب پر ہو رہی ہے، مسلم لیگ ن پنجاب نہیں ہے۔
صنم جاوید کو گرفتار کرلیا گیا
پیپلزپارٹی ہوائی فائرنگ سے نہیں ڈرتی، نہ ملک چھوڑ کربھاگنے والی ہے، ہم چاہتے نہیں کہ اس لہجے میں جواب دیں جس لہجے میں آپ بات کر رہےہیں، یاد رکھیے، آپ کو پھر بلاول بھٹو اور آصف زرداری کی ضرورت پڑےگی، یہ وقت مجھے دور نظرنہیں آرہا، عوام کے دل جیتنےکے لیے تصاویر کی نہیں کارکردگی کی ضرورت ہوتی ہے، ہم تجاویز دیتے رہیں گے، آپ پنجاب میں مارشل لا ڈکٹیٹر بننے کی کوشش نہ کریں۔
سولر پاور کے بجلی نرخ میں 2 روپے فی یونٹ کمی
پلوشہ خان نے کہا کہ آپ اپنے اوپر آنے والی تنقید کو پنجاب کے عوام کے گلے نہ ڈالیں، جس نے جو کام کیاہے سہرا اسی کےسر جائےگا، ہم نے سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک کو کبھی ذریعہ نہیں بنایا، بی آئی ایس پی کے تحت مدد کرنے پر آپ کو کیا اعتراض ہے؟ آپ سوالات کے جوابات دینے کے عادی بنیں، ہم آپ سے پوچھ سکتے ہیں سی سی ڈی کیا فورس ہے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پلوشہ خان
پڑھیں:
گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
فائل فوٹووفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔
گلگت میں جیو نیوز سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ ہے، جس کا مقابلہ کوئی جماعت نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تمام جماعتیں اور ان کے لیڈرز انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی جماعت یہ کہتی ہے کہ اسے حصہ نہیں لینے دیا جارہا تو وہ اپنی شکست کا بہانہ تلاش کررہی ہے۔