ماں جیسے رشتے کا کوئی نعم البدل نہیں؛ صدر مملکت کا وزیر داخلہ سندھ کی والدہ کے انتقال پر تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
سٹی 42: صدر پاکستان آصف علی زرداری صوبائی وزیر داخلہ سندھ سے ان کی والدہ کے انتقال کی تعزیت کرنے لنجار ہاؤس پہنچ گئے ۔
صدر پاکستان آصف علی زرداری نے نواب شاہ میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور طارق علی سولنگی کی والدہ کے انتقال پر تعزیت اور مرحومہ کی مغفرت و بلند درجات کیلئے دعا کی۔
لنجار ہاؤس میں سوگوران سے تعزیت کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ماں جیسے رشتے کا کوئی نعم البدل نہیں ، انہوں نے مرحومہ کے اہل خانہ کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں مرحومہ کی وفات کو انکے اہل خانہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان اور بڑا صدمہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سوگواروں کے غم اور دکھ کی اس گھڑی میں برابر کے شریک ہیں۔
صنم جاوید کو گرفتار کرلیا گیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔