ماں جیسے رشتے کا کوئی نعم البدل نہیں؛ صدر مملکت کا وزیر داخلہ سندھ کی والدہ کے انتقال پر تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
سٹی 42: صدر پاکستان آصف علی زرداری صوبائی وزیر داخلہ سندھ سے ان کی والدہ کے انتقال کی تعزیت کرنے لنجار ہاؤس پہنچ گئے ۔
صدر پاکستان آصف علی زرداری نے نواب شاہ میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور طارق علی سولنگی کی والدہ کے انتقال پر تعزیت اور مرحومہ کی مغفرت و بلند درجات کیلئے دعا کی۔
لنجار ہاؤس میں سوگوران سے تعزیت کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ماں جیسے رشتے کا کوئی نعم البدل نہیں ، انہوں نے مرحومہ کے اہل خانہ کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں مرحومہ کی وفات کو انکے اہل خانہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان اور بڑا صدمہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سوگواروں کے غم اور دکھ کی اس گھڑی میں برابر کے شریک ہیں۔
صنم جاوید کو گرفتار کرلیا گیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔