اے ایف سی ایشین کپ کوالیفائر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جمعرات کو اسلام آباد میں میچ نہ ہونے کے امکانات بڑھ گئے۔

مہمان ٹیم کی جانب سے تکنیکی غلطیوں کے سبب تمام افعان کھلاڑیوں اور آفیشلز کو پاکستان کے ویزے جاری نہیں ہو سکے، میچ کے حوالے سے پاکستان کے تمام تر انتظامات مکمل تھے۔

پاکستان فٹ بال فیڈریشن نے حکومت اور اے ایف سی کو تمام تر صورتحال سے آگاہ کر دیا۔ قانون کے مطابق پاکستان کو میچ میں واک اوور ملنے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں شیڈول اے ایف سی ایشین کپ 2027 کے لیے کوالیفائر راؤنڈ میں جمعرات کو اسلام آباد کے جناح اسٹیڈیم میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان میچ کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔

 انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق  تکنیکی غلطیوں کے سبب کابل میں پاکستانی سفارت خانے نے تمام مہمان کھلاڑیوں اور افیشلز کو ویزے جاری نہیں کیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک صرف تین افغان کھلاڑیوں اور 10 آفیشلز کو اپاکستان کےویزے جاری کیے جا سکے ہیں۔ بیرون ملک رہائش پزیر افغان فٹبالرز کو ہنوز ویزے جاری نہیں ہو سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ویزوں کی عدم اجرا کی وجوہات میں تکنیکی خامیاں شامل ہیں۔بیرون ملک مقیم افغان فٹبالرز نے ویزے میں اپنا مقام افغانستان ظاہر کیا۔

قواعد کے مطابق کسی بھی بیرون ملک ایونٹ میں شرکت کے لیے متعلقہ ٹیم کو 30 روز قبل ویزے حاصل کرنے ہوتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی فٹبال فیڈریشن نے تازہ ترین صورتحال سے حکومت پاکستان اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کو صورتحال سے اگاہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب قواعد کے مطابق قوی امکان ہے کہ میچ نہ ہونے کی صورت میں افغانستان کی تکنیکی غلطیوں کی بنیاد پر  پاکستان کو میچ میں واک اوور حاصل ہو جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اور ویزے جاری اے ایف سی کے مطابق

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش