Jasarat News:
2026-07-24@08:10:03 GMT

سندھ ہاری تحریک ظلم و جبر کیخلاف آج احتجاج کریگی

اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سندھی ہاری تحریک کی آج (8 اکتوبر کو) پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ہزاروں ہاری ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔سندھی ہاری تحریک کے مرکزی صدر غلام مصطفی چانڈیو، مرکزی رہنما ڈاکٹر دلدار لغاری، علی نواز ڈاہری، انور رند اور بلاول لاشاری نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ جاگیردارانہ نظام، کارپوریٹ فارمنگ، نئے ڈیم، نہروں کی تعمیر، زرعی اجناس بیرونی ممالک سے درآمد کرنے، دھان سمیت فصلوں کے کم نرخ مقرر کرنے اور بیج و کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سندھی ہاری تحریک کی جانب سے 8 اکتوبر 2025 کو گل سینٹر سے حیدرآباد پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی، جہاں پہنچ کر دھرنا دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ سندھی ہاری تحریک ہمیشہ سندھ کے ہاریوں اور محنت کشوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کے میدان میں رہی ہے۔ تحریک کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر آج ہزاروں ہاری اور خواتین کسان اپنی حقوق کے لیے بھرپور احتجاج کریں گے۔رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ جعلی بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی فروخت کو فوری طور پر روکا جائے اور جعلی زرعی دوائیں فروخت کرنے والی کمپنیوں کے مالکان کو گرفتار کر کے عبرتناک سزا دی جائے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت دھان کے نرخ کم کر کے ہاریوں کا معاشی قتل عام کر رہی ہے۔ سندھ حکومت منافع خور تاجروں کی سرپرستی کر کے ہاریوں کو معاشی طور پر تباہ و برباد کر چکی ہے۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی جاگیردار نواز حکومت کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے غیر ملکی کمپنیوں کو سندھ کی زمینیں دے چکی ہے، لیکن سندھ کے ہاریوں کو ایک ایکڑ زمین دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔ وڈیرے اور جاگیردار ہاریوں کو زمینوں اور گھروں سے بے دخل کر رہے ہیں، مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کو تیار نہیں۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھی ہاری تحریک کے ہاریوں

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار