علی امین گنڈا پور کے مطالبے پر سپیکر کے پی اسمبلی کا استعفیٰ دینے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پشاور(آئی این پی )وزیراعلی خیبرپی کے علی امین گنڈا پور نے اسپیکر خیبرپی کے اسمبلی بابر سلیم سواتی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ، جس پر انہوں نے استعفی دینے سے صاف انکار کردیا ہے۔تفصیل کے مطابق پی ٹی آئی میں اندورنی اختلافات مزید بڑھ گئے وزیر اعلی خیبرپی کے علی امین گنڈا پور نے وزرا کو فارغ کرنے اور وزارتوں میں رد و بدل کے بعد اب سپیکر خیبرپی کے اسمبلی بابر سلیم سواتی کو بھی اپنے انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے ان کو استعفی دینے کا کہا ہے۔ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق وزیراعلی خیبرپی کے علی امین گنڈا پور نے سپیکر صوبائی اسمبلی کو وزیر اعلی ہائوس بلا کر استعفی دینے کا کہا لیکن سپیکر نے یکسر انکار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ سپیکر شپ کا عہدہ انہیں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے دیا ہے اس لیے وہ صرف ان کے کہنے پر عہدہ چھوڑیں گے اور اس کے لیے وہ خود عمران خان سے ملاقات کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور خیبرپی کے
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔