سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
فوٹو: پی آئی ڈی
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، سعودی عرب بھی ہمیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔
سعودی پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب کیے کئی دورے کرچکا مگر حالیہ دورہ بالکل منفرد تھا، سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے لیے بے مثال محبت دکھائی، ہم آج یہاں ایک خاندان کی طرح بیٹھے ہیں، سعودی عرب اور پاکستان کا تعلق غیرمتزلزل اور مستقل عزم پر مبنی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہر مسلمان ویسے بھی حرمین شریفین پر قربان ہونے کیلئے تیار ہوتا ہے، سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے مشکل وقت میں ساتھ دیا، پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی حمایت بڑی اہم تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ بھائی چارے پر مبنی تعلقات کی باقاعدہ شکل ہے، پاک سعودی تعلقات کاروبار اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر مزید مضبوط بنائیں گے، پاکستان اور سعودی عرب مشترکہ کاروباری خواب حقیقت بنانے کیلئے تعاون کریں، تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات آگے بڑھائیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ آج ہمیں سعودی عرب سے سیکھنے کی ضرورت ہے، ہمیں یہ موقع میسر ہے، وقت اور حالات کسی کا انتظار نہیں کرتے ہمیں خود کو تیار کرنا ہوگا، سعودی عرب بھی ہمیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہے، ولی عہد محمد بن سلمان کی متحرک اور وژنری قیادت نے سعودی معاشرہ بدل کر رکھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہر مسلمان مقدس مقامات کے تحفظ کیلئے جان قربان کرنے کو تیار ہے، مقدس مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہمیشہ محافظ رہیں گے۔
اس موقع پر شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب مشترکہ بزنس کونسل اجلاس کیلئے آئے ہیں، پاکستان آنے سے قبل سعودی عرب کے تمام اہم وزراء سے ملاقاتیں کیں، سعودی وزرا کو پاکستان میں ممکنہ اسٹریٹیجک منصوبوں سے آگاہ کیا انھوں نے حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی کاروباری طبقے کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سہولتیں فراہم کی جائیں گی، وزیراعظم نے جن شعبوں پر زور دیا ہم بھی ان ہی پر توجہ دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔