امریکی قانون سازوں کا چین کو آلات کی فروخت پر پابندیوں کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ایوانِ نمائندگان کی چین سے متعلق کمیٹی نے ایک تازہ رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کو چینی کمپنیوں کو سیمی کنڈکٹر بنانے والے آلات کی فروخت پر موجودہ محدود پابندیوں کے بجائے وسیع اور جامع پابندیاں عائد کرنی چاہییں۔ یہ مطالبہ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انکشاف ہوا کہ چینی چِپ ساز اداروں نے 2024 ء کے دوران 38 ارب ڈالر مالیت کے جدید ترین آلات خریدے، جو کہ 2022 ء کی نسبت 66 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان آلات کی خریداری 5بڑی عالمی کمپنیوں اے ایس ایم ایل ، کے ایل اے ، لام ریسرچ ، اپلائیڈ مٹیریلز اور ٹوکیو الیکٹرون سے کی گئی، جو کہ ان کمپنیوں کی مجموعی فروخت کا تقریباً 39 فیصد بنتی ہے۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ امریکا، جاپان اور نیدرلینڈز کی جانب سے جاری کردہ برآمدی قواعد میں عدم مطابقت کی وجہ سے غیر امریکی کمپنیوں نے ایسے چینی اداروں کو آلات فروخت کیے جنہیں امریکی کمپنیاں فروخت نہیں کر سکتی تھیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان فروختوں سے چین کو سیمی کنڈکٹرز کی تیاری میں نمایاں سبقت حاصل ہوئی ہے،جس کے عالمی سطح پر انسانی حقوق اور جمہوری اقدار پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ پابندیاں صرف مخصوص کمپنیوں پر نہیں بلکہ پورے چینی چپ سازی کے شعبے پر عائد کی جائیں اور ان میں اْن پرزہ جات کی فروخت پر بھی قدغن شامل ہو جو چین اپنی مقامی چپ مشینیں تیار کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔