data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیجنگ: چینی ہیکرز نے امریکا کی متعدد بڑی لا فرموں کے کمپیوٹر سسٹمز کو ہدف بناتے ہوئے حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کرلی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ اداروں میں واشنگٹن ڈی سی کی معروف لا فرم ویلیمز اینڈ کونولی (Williams & Connolly) بھی شامل ہے جو سابق صدور بل کلنٹن اور جارج ڈبلیو بش سمیت کئی اعلیٰ امریکی سیاست دانوں کی قانونی نمائندگی کر چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ویلیمز اینڈ کونولی نے اپنے مؤکلوں کو آگاہ کیا ہے کہ ان کے سسٹم میں دراندازی کی گئی اور ہیکرز ممکنہ طور پر کچھ ای میلز تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

کمپنی نے وضاحت کی کہ یہ حملہ ایک زیرو ڈے اٹیک کے ذریعے کیا گیا، جس میں سافٹ ویئر کی نامعلوم کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

امریکی فرم نے کہا کہ ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملا کہ مؤکلوں کا خفیہ ڈیٹا یا فائلز چوری کی گئی ہوں، ہم نے خطرے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں اور اس وقت نیٹ ورک پر کسی غیر مجاز سرگرمی کے شواہد موجود نہیں۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آئی کے واشنگٹن فیلڈ آفس نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہی چینی ہیکرز گزشتہ چند ماہ کے دوران درجنوں دیگر لا فرموں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔

ویلیمز اینڈ کونولی نے سائبر سیکیورٹی کمپنی کروڈ اسٹرائیک (CrowdStrike) اور بین الاقوامی لا فرم نورٹن روز فلبرائٹ (Norton Rose Fulbright) کو تحقیقات اور ردعمل کے لیے مقرر کیا ہے۔ ابتدائی تحقیق کے مطابق حملہ آور ایک ایسے ریاستی گروہ سے منسلک ہیں جو امریکی اداروں کے خلاف وسیع پیمانے پر سائبر جاسوسی مہم چلا رہا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ادارہ مینڈیانٹ (Mandiant) کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ چینی ہیکرز برسوں سے زیرو ڈے کمزوریوں کے ذریعے امریکی اداروں، خصوصاً لا فرموں، کو نشانہ بنا کر حساس معلومات حاصل کر رہے ہیں۔

ویلیمز اینڈ کونولی نے اپنے مؤکلوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے علم کے مطابق ہیکرز کا مقصد کوئی مالی فائدہ یا معلومات کی فروخت نہیں بلکہ ممکنہ طور پر انٹیلی جنس اکٹھا کرنا تھا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی سائبر جاسوسی کی جنگ کو اجاگر کرتا ہے، جس نے قومی سلامتی اور قانونی راز داری کے معاملات پر نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چینی ہیکرز لا فرموں کے مطابق

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا