کبھی سوچا؟ ٹرینوں میں سیٹ بیلٹ کیوں نہیں ہوتیں؟ ماہرین نے وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اگر آپ نے کبھی ٹرین میں سفر کیا ہو تو ضرور محسوس کیا ہوگا کہ اس میں سیٹ بیلٹس موجود نہیں ہوتیں، حالانکہ گاڑیوں اور طیاروں میں یہی سیفٹی فیچر جان بچانے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، صرف سیٹ بیلٹ کے استعمال سے گاڑیوں میں حادثے کے دوران فرنٹ سیٹ پر بیٹھے افراد کی موت کا خطرہ 45 فیصد تک اور شدید زخمی ہونے کا امکان 50 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح طیاروں میں بھی سیٹ بیلٹس مسافروں کو تیز ہواؤں یا ہچکولوں کے دوران محفوظ رکھتی ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ جب گاڑیاں اور طیارے سیٹ بیلٹس کے بغیر محفوظ نہیں سمجھے جاتے تو ٹرینوں میں یہ کیوں نہیں ہوتیں؟ ماہرین کے مطابق، ٹرینوں کے سفر کی نوعیت بالکل مختلف ہوتی ہے۔ ٹرین میں حادثے کا خطرہ نہایت کم ہوتا ہے اور اس میں سیٹ بیلٹ نصب کرنا زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا بلکہ پیسے کا ضیاع سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ طیاروں میں “ٹو پوائنٹ لیپ بیلٹ” سسٹم کارآمد ہے، مگر یہی نظام ٹرینوں کے لیے مؤثر نہیں۔ دوسری جانب، گاڑیوں میں استعمال ہونے والی “تھری پوائنٹ سیٹ بیلٹ” ٹرین کی نشستوں کے ڈیزائن میں فٹ نہیں کی جا سکتی، اور اگر کی بھی جائے تو اس کے لیے ٹرین کی بوگیوں کے اندرونی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ ماہرین کے مطابق سیٹ بیلٹس ٹرینوں کا سفر محفوظ بنانے کے بجائے بعض اوقات خطرناک بھی بنا سکتی ہیں۔ چونکہ ٹرینوں کی نشستیں سخت ہوتی ہیں، لہٰذا حادثے کی صورت میں جن مسافروں نے بیلٹ نہیں باندھی ہوتی، وہ دوسروں سے زیادہ خطرے میں پڑ سکتے ہیں، جس سے مجموعی نقصان بڑھنے کا امکان رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرینوں میں اب تک سیٹ بیلٹس کو ضروری نہیں سمجھا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔
جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔
زیرِ زمین عسکری نیٹ ورکقشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔
ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
زیرِ زمین ’میزائل سٹیز‘ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔
ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔
عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخآبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔
اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذقشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔
ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔
امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران کا قشم جزیرہ