کابینہ سے منظوری ملنے تک جنگ بندی نافذ العمل نہیں ہوگی؛ اسرائیل کا یوٹرن
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسرائیل نے کہا ہے کہ جب تک کابینہ متفقہ طور پر غزہ جنگ بندی معاہدے کو منظور نہ کرلے تب تک یہ نافذ العمل نہیں ہوگا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس بات کا اعلان اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کیا گیا ہے۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی پر اسرائیل اور حماس کے متفق ہونے اور مصری میڈیا کی جانب سے اس کے نافذالعمل ہونے کے دعوے کے بعد سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ جنگ بندی پر عمل درآمد کا باضابطہ آغاز حکومت کی جانب سے معاہدے کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے مصری سرکاری ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ جنگ بندی معاہدہ دوپہر کے وقت مصر میں دستخط ہونے کے بعد ہی نافذ ہوچکا ہے۔
تاہم، اسرائیلی حکومتی ذرائع نے واضح کیا کہ ابھی معاہدے کو کابینہ کی منظوری درکار ہے۔ جس کے لیے اجلاس آج شام 6 بجے منعقد ہوگا۔
اجلاس میں غزہ جنگ بندی معاہدے پر ووٹنگ کی جائے گی۔ توقع ہے کہ معاہدے کو منظور کر لیا جائے گا، جس کے بعد جنگ بندی رسمی طور پر لاگو ہو جائے گی۔
قبل ازیں مصر میں غزہ جنگ بندی معاہدے پر فریقین نے دستخط کردیئے جس کے تحت جنگ چند روز تک روک دی جائے گی، امدادی سامان کو غزہ میں داخل ہونے دیا جائے گا اور یرغمالیوں کی رہائی کو ممکن بنایا جا سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔